وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ میں ملوث غیر ملکی شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 284 ویتنامی اور انڈونیشی شہریوں کو 15 دن کے اندر پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے یہ قدم مقامی شہری مراکز سے چلنے والے پیچیدہ آن لائن فراڈ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں انٹیلی جنس اور سائبر کرائم یونٹس نے غیر ملکی سنڈیکیٹس کی طرف سے چلائی جانے والی مشکوک ڈیجیٹل سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی تھی۔ تفتیش کاروں نے انکشاف کیا کہ یہ گروہ مالیاتی گھپلوں اور فراڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسکیموں کے ذریعے بین الاقوامی متاثرین کو نشانہ بنانے کے لیے مقامی پراکسی نیٹ ورکس اور کرائے کی جائیدادوں کا استعمال کر رہے تھے۔
کریک ڈاؤن کی تفصیلات اور روانگی کی آخری تاریخ
یہ باضابطہ ملک بدری کے احکامات بڑے شہروں میں کیے جانے والے مربوط چھاپوں کے بعد جاری کیے گئے، جہاں حکام نے ایسے غیر ملکی شہریوں کی بڑی تعداد کی نشاندہی کی جو اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام پذیر تھے یا سیاحتی و تجارتی کیٹیگریز کا غلط استعمال کر رہے تھے۔ متاثرہ 284 افراد کو، جن میں ویتنام اور انڈونیشیا کے شہری شامل ہیں، ملک سے باہر جانے کے لیے حکم نامے کے اجرا سے لے کر بالکل 15 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے سفری دستاویزات کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور مشتبہ افراد کی باوقار واپسی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ سفارت خانوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جو بھی شخص مقررہ مدت میں ملک نہ چھوڑ سکا اسے فوری گرفتاری، پاکستانی قوانین کے تحت مقدمات اور زبردستی ملک بدر کرنے سے پہلے طویل حتحات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سائبر کرائم نیٹ ورکس پر بڑھتے ہوئے خدشات
سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مجرمانہ گروہ ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور بعض کرائے کی مارکیٹوں میں کمزور نگرانی کی وجہ سے پاکستان کو عارضی بیس کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایف آئی اے کا یہ تازہ ترین آپریشن مقامی زمین کا استعمال کرنے والے غیر ملکی مجرم عناصر کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی ظاہر کرتا ہے۔
- متاثرہ قومیتیں: ویتنام اور انڈونیشیا کے شہری
- کل متاثرہ افراد: 284 افراد
- عملدرآمد کا وقت: پاکستان چھوڑنے کے لیے 15 دن
- مرکزی الزام: ڈیجیٹل اسکیموں اور آن لائن فراڈ میں مبینہ ملوث ہونا
حکام کا اگلا لائحہ عمل
وفاقی تفتیش کاروں نے ان مقامی سہولت کاروں، زمین مالکان اور فرضی اداروں کی تلاش کے لیے اپنی تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے جنہوں نے ان غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی کال سینٹرز اور ڈیجیٹل آپریشنز قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔ جائیداد کے مالکان اور رینٹل ایجنٹس کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ کرایہ داروں کی دستاویزات کی سختی سے تصدیق کریں اور قانون کے مطابق غیر ملکی رہائشیوں کی مقامی پولیس اسٹیشنوں میں اطلاع دیں۔
عام شہریوں اور جائیداد کے مالکان کو چاہیے کہ وہ رہائشی علاقوں میں ہونے والی مشکوک تجارتی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔ اگر آپ کو بند دروازوں کے پیچھے کمپیوٹرز کا بھاری سامان چلانے والے غیر مجاز غیر ملکی گروہ نظر آئیں، تو پاکستانی سرزمین پر مزید غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم ہیلپ لائن کو مطلع کریں۔
