چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سابق فوجیوں کا تجربہ اور رہنمائی پاکستان کی مسلح افواج کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ عسکری حلقوں میں ادارے کی روایات کو برقرار رکھنے کے تناظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریٹائرڈ اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس تقریب میں ریٹائرڈ فوجی قیادت اور حاضر سروس کمانڈروں نے شرکت کی جہاں عسکری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ سابق افسران کی طرف سے محفوظ کردہ ادارہ جاتی یادداشت جدید تربیتی ڈاکٹرائن اور آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ادارہ جاتی یادداشت کی اہمیت
خطے کی پیچیدہ صورتحال اور سلامتی کے نئے خطرات کے پیش نظر حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکاروں کے درمیان رابطہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ پاک فوج میں روایتی طور پر ایسے مشاورتی پلیٹ فارمز موجود ہیں جہاں ریٹائرڈ کمانڈر اپنے طویل تجربے کی روشنی میں دفاعی حکمت عملیوں میں حصہ ڈالتے ہیں۔
- سابق فوجیوں کی رہنمائی سے جنگی تربیت کے پروگرام بہتر ہوتے ہیں۔
- ادارہ جاتی تسلسل سے جونیئر افسران کو فائدہ پہنچتا ہے۔
- ریٹائرڈ قیادت کی سٹریٹجک آراء موجودہ آپریشنز میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
اسلام آباد کے دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق سابق فوجیوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا فوج کو بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے ہم آہنگ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اعلیٰ ترین عسکری عہدے کی طرف سے اس عزم کا اعادہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکاروں کے رشتے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
دفاعی منصوبہ بندی پر اثرات
حاضر سروس قیادت اور سابق فوجیوں کے درمیان اس جاری تعاون سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ماضی کے انسداد دہشت گردی کے آپریشنز اور سرحدی تعیناتیوں سے سیکھے گئے اسباق ضائع نہ ہوں۔ ان تجربات کو پیشہ ورانہ عسکری تعلیم کے نظام کے ذریعے باقاعدہ طور پر آنے والی نسلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
قومی سلامتی کے امور پر نظر رکھنے والے شہری آئندہ دنوں میں جی ایچ کیو کی جانب سے سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مشاورتی کردار سے متعلق مزید اعلانات کی توقع کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد آپریشنل کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کی طرف سے منعقد ہونے والی آئندہ سابق فوجی کنونشنز اور فلاحی تقریبات پر نظر رکھیں، جہاں حاضر اور سابق اہلکاروں کے درمیان تعاون کے نئے طریقوں کا اعلان متوقع ہے۔ یہ نشستیں عام طور پر سینئر ریٹائرڈ افسران کے لیے پالیسی سازی اور فلاحی امور کا احاطہ کرتی ہیں۔
