فیفا کے سربراہ جنانی انفانتینو کو یورپی پروفیشنل فٹبال لیگز کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے، اور یورپی عہدیداروں نے ان کے دور اقتدار کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ یہ بڑھتا ہوا دباؤ براہ راست ان کے اس ناکام منصوبے سے جڑا ہے جس کے تحت وہ عالمی کپ کے تجارتی اثاثوں کا ایک حصہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔
تجارتی حقوق کے معاہدے کا خاتمہ
دنیا بھر کے فٹبال منتظمین کے لیے یہ ناکام قدم گورننس میں ایک بڑی غلطی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انفانتینو نے عالمی ٹورنامنٹ کی مالیاتی تگ و دو میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے بھرپور زور لگایا تھا۔ یورپی لیگ کے سربراہان نے اس معاہدے کی شرائط پر سخت اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وسیع مشاورت کے بغیر بین الاقوامی فٹبال کے اہم اثاثے فروخت کرنا ایک خطرناک قدم ہے۔
اس تنازعے کے بعد زیورخ میں واقع فیفا کا ہیڈ کوارٹر صورتحال کو سنبھالنے میں مصروف ہے۔ اگرچہ علاقائی فیڈریشنز کے پاس ووٹنگ کی بڑی طاقت موجود ہے، تاہم یورپ کی جانب سے اس مشترکہ مخالفت نے فیفا کی انتظامیہ میں ایک گہری درڑ ڈال دی ہے۔
عالمی فٹبال انتظامیہ کے لیے اس کے معنی
اگرچہ پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مرحلے سے بہت دور ہے، تاہم مقامی شائقین اور پاکستان فٹبال فیڈریشن (PFF) عالمی انتظامی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سرفہرست سطح پر شفافیت یہ طے کرتی ہے کہ ترقیاتی گرانٹس اور گراس روٹس فنڈنگ جنوبی ایشیا کی رکن ایسوسی ایشنز تک کیسے پہنچتی ہے۔
جب یورپی لیگز جیسے بڑے بلاکس صدارت کو چیلنج کرتے ہیں، تو مالیاتی تعمیل اور گورننس کی اصلاحات مرکزی توجہ بن جاتی ہیں۔ PFF کے حکام اکثر گھریلو لیگ کی تشکیل نو اور کوچنگ کورسز کے لیے فیفا کے فنڈنگ سائیکلز پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سربراہی میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام مقامی سطح پر خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
آپ کو آگے کیا دیکھنا چاہیے
آنے والے ہنگامی کانگریس اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں یورپی مندوبین باضابطہ گورننس قراردادیں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر افریقہ، ایشیا اور امریکہ کے دیگر کنفیڈریشنز بھی یورپی مؤقف کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں، تو انفانتینو کو انتخابی دور سے پہلے ایک غیر معمولی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے میچز دیکھنے والے مقامی شائقین کے لیے یہ صورتحال ایک یاد دہانی ہے کہ فٹبال کی انتظامی سیاست ہمیشہ ہنگاموں سے پاک نہیں ہوتی۔ سوئٹزرلینڈ میں سیاسی گرد بیٹھنے کے ساتھ ہی علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے مزید بیانات متوقع ہیں۔
