عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی فیفا کے اندر ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں صدر گیانی انفنٹینو کی جانب سے فیفا ورلڈ کپ کے حصص بیچنے کی تجویز پر دنیا بھر کی طاقتور فٹ بال کنفیڈریشنز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیر کے روز یوئیفا (UEFA)، ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (AFC) اور کونکاکاف (CONCACAF) نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اس کمرشل تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ کے حصص کا تنازع کیا ہے؟

گیانی انفنٹینو کی خواہش ہے کہ فیفا کے سب سے منافع بخش اثاثے یعنی ورلڈ کپ کے کمرشل حقوق میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ دار بنایا جائے۔ فیفا کا دعویٰ ہے کہ اس سے تنظیم کے پاس فنڈز کی فراوانی ہوگی جو رکن ممالک کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے، لیکن نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم فٹ بال کی طویل مدتی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔

اس تنازع کے اہم نکات یہ ہیں:
- مشترکہ مخالفت: یورپ، ایشیا اور شمالی و وسطی امریکہ کی کنفیڈریشنز اب اس معاملے پر ایک پیج پر ہیں۔
- انتظامی خدشات: ناقدین کو ڈر ہے کہ نجی سرمایہ کاروں کے آنے سے ٹورنامنٹ کے شیڈول اور ڈھانچے پر کارپوریٹ اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔
- مالی شفافیت: کنفیڈریشنز اس بات پر شکی ہیں کہ اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا درست استعمال کیسے یقینی بنایا جائے گا۔

پاکستان اور ایشیائی فٹ بال پر اثرات

پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں فٹ بال کی ترقی پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، فیفا کے مالیاتی ماڈل میں کوئی بھی بڑی تبدیلی براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کی مخالفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن (PFF) سمیت دیگر ایشیائی ممالک اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فیفا سے ملنے والی گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر فیفا کے کمرشل حقوق نجی ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں، تو ان گرانٹس کی تقسیم کا عمل تبدیل ہو سکتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

یہ معاملہ اب فیفا کونسل کے اگلے اجلاسوں میں مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ چونکہ بڑی کنفیڈریشنز کے پاس فیفا کے آئین میں تبدیلی کو روکنے کی طاقت موجود ہے، اس لیے انفنٹینو پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ یا تو اپنی تجویز واپس لیں یا پھر اپنی ساکھ کو خطرے میں ڈالیں۔

فٹ بال کے شائقین کو فیفا کی آفیشل ویب سائٹ (fifa.com) پر نظر رکھنی چاہیے جہاں کسی بھی باضابطہ اجلاس کے ایجنڈے کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ فی الحال یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور فٹ بال کی دنیا ایک بڑے انتظامی ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہی ہے۔