عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی نے قیادت کی سطح پر اچانک نظرثانی کے بعد متنازعہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز پروجیکٹ کو باضابطہ طور پر واپس لے لیا ہے۔ رکن فیڈریشنز میں تجارتی حکمت عملیوں کو نئی شکل دینے کے بڑے عزائم کے ساتھ شروع کیا جانے والا یہ اقدام اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ترقی پذیر فیڈریشنز کے کھیلوں کے منتظمین کے لیے، اس اچانک تبدیلی نے متوقع فنڈنگ اور ساختی اصلاحات کے ایک بڑے ستارے کو ہٹا دیا ہے۔ عالمی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ تنظیمی اتحاد کو برقرار رکھنا ان کے انتظامی دور کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔
اگرچہ اس اعلیٰ سطحی پالیسی کی تبدیلی کا مرکز زیورخ ہے، لیکن اس کے اثرات پاکستان فٹبال فی سمیت علاقائی انتظامی دفاتر تک پہنچتے ہیں۔ مقامی ایسوسی ایشنز اکثر گھریلو لیگز، نوجوانوں کے سیٹ اپ اور انفراسٹرکچر اپ گریڈ کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی گرانٹس اور ترقیاتی فریم ورک پر انحصار کرتی ہیں۔ انٹرپرائز کے خاتمے کے ساتھ، قومی اداروں کو اب متوقع تعاون کے بغیر اپنی مالیاتی حکمت عملیوں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ مقامی کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا نوٹ کرنا ہے کہ گھریلو فٹبال روایتی طور پر بجٹ کے مستقل خسارے کو پورا کرنے کے لیے بیرونی فنڈنگ کے ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔
مقامی کھیل کے لیے اس فیصلے کا کیا مطلب ہے؟
فوری نتیجہ ان فیڈریشنز کے لیے مالیاتی افق کا تنگ ہونا ہے جنہوں نے آنے والے عالمی پروگراموں کے ارد گرد اپنا بجٹ بنایا تھا۔ منسوخ شدہ فریم ورک کا مقصد ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لیے تیار کردہ ٹولز اور ریونیو جنریشن کے ماڈلز پیش کرکے رکن ممالک کے درمیان تجارتی خود کفالت کو بڑھانا تھا۔ اس کے بغیر، علاقائی منتظمین کو نچلی سطح کے پروگراموں کو زندہ رکھنے کے لیے مکمل طور پر روایتی گرانٹ کے طریقوں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں نچلی سطح کے کوچز اور کلب کے منتظمین طویل عرصے سے دائمی فنڈز کی کمی کا شکوہ کرتے رہے ہیں۔
شائقین اور منتظمین کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ مقامی کلب کے انتظام، اکیڈمی کے کاموں یا علاقائی فٹبال کے فروغ میں شامل ہیں، تو قریب مدت میں سخت بجٹ کی توقع رکھیں۔ گھریلو شیڈول کو بچانے کے لیے آنے والے نئے بین الاقوامی تجارتی پروگراموں پر انحصار نہ کریں۔ اس کے بجائے، مقامی منتظمین پر زور دیں کہ وہ موجودہ ملکی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے شفاف مالیاتی انتظام اور نچلی سطح پر نوجوانوں کی ترقی کو ترجیح دیں۔ شفافیت بین الاقوامی خیر سخواہی کے مقابلے میں کارپوریٹ سپانسرشپ کو زیادہ تیزی سے راغب کرتی ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
متبادل فنڈز کے ذرائع اور ڈومیسٹک لیگ کیلنڈرز کے حوالے سے قومی فیڈریشن کی آنے والی مواصلات پر گہری نظر رکھیں۔ اس بات کا مشاہدہ کریں کہ آیا زیورخ منسوخ شدہ اقدام کی وجہ سے پیدا ہونے والے تجارتی خلیج کو پُر کرنے کے لیے کوئی چھوٹا متبادل پروگرام متعارف کراتا ہے۔ آنے والے ہفتوں سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آیا علاقائی دفاتر مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں یا نہیں مئی میں مالی رکاوٹوں کی وجہ سے مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
