وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر، 16 جون 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (PDA) کے چیئرپرسن ڈاکٹر سہیل منیر سے ایک اہم میٹنگ کی۔ اس ملاقات میں ڈجیٹل پاکستان وژن کے تحت ڈجیٹل فنانس، ڈجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ای کامرس کی اصلاحات پر بات چیت ہوئی۔ دونوں نے نیشنل ڈجیٹل پالیسی 2025، پاکستان ڈجیٹل اکانومی فریم ورک اور ای پیمنٹس سسٹم ایکسپینشن پر بھی غور کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت نے اپنے 2025 کے ڈجیٹل ہدف کو پورا کرنے کے لیے تیزی دکھائی ہے، جس میں ڈجیٹل لین دین میں 50 فیصد اضافہ اور براڈبینڈ تک رسائی میں 30 فیصد اضافہ شامل ہے۔ اورنگزیب نے PDA کے کام کی تعریف کرتے ہوئے اسے "پاکستان کی اقتصادی ترقی اور مالی شمولیت کے لیے انتہائی اہم" قرار دیا۔ انھوں نے اتھارٹی کو نیشنل ڈجیٹل آئی ڈی (NDID) کی تیز ترین تعیناتی پر بھی زور دیا، جس کا مقصد لاکڑوں پاکستانیوں کے لیے سرکاری خدمات اور بینکاری تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔
میٹنگ میں کیا بات ہوئی
- ڈجیٹل فنانس کی توسیع: PDA نے وزیر کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) 2.0 کے بارے میں آگاہ کیا، جس سے غیر مقیم پاکستانیوں کو چند منٹوں میں اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت ملتی ہے۔ اس کے آغاز سے اب تک 12 لاکھ سے زائد RDA اکاؤنٹس کھلے ہیں، جن میں 3.5 ارب ڈالر (980 ارب روپے) سے زائد کی رقم جمع ہوئی ہے۔ اب PDA مقامی ای کامرس کو اس نظام سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ چھوٹے کاروباری افراد کو کم فیس پر ڈجیٹل ادائیگیاں حاصل ہوں۔
- ای کامرس کی ترقی: اتھارٹی نے پاکستان ای کامرس پالیسی 2025 پر روشنی ڈالی، جس میں اسٹارٹ اپس کو ٹیکس میں رعایت اور لاجسٹکس کمپنیوں کو مراعات دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد جی ڈی پی میں ای کامرس کی حصے داری کو 1.2 فیصد سے بڑھا کر 2027 تک 3 فیصد کرنا ہے۔
- سائبر سیکیورٹی اپ گریڈ: آن لائن دھوکہ دہی میں اضافے کے پیش نظر PDA نیشنل سائبر سیکیورٹی فریم ورک کو حتمی شکل دے رہا ہے تاکہ ڈجیٹل ادائیگیوں اور سرکاری ڈیٹا بیسز کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اگلے مہینے سے سائبر سیکیورٹی ہیلپ لائن (0800-11111) عوام کے لیے شروع ہو جائے گی۔
- براڈبینڈ اور 5G: PDA نے تصدیق کی ہے کہ 5G کے ٹرائلز ستمبر 2025 تک کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں شروع ہو جائیں گے، جبکہ مارچ 2026 تک تجارتی آغاز متوقع ہے۔ حکومت نے اس سال 50 ارب روپے دیہی براڈبینڈ توسیع کے لیے مختص کیے ہیں۔
- ڈجیٹل آئی ڈی سسٹم: نیشنل ڈجیٹل آئی ڈی (NDID) کئی آئی ڈیوں (CNIC، سIM ویریفیکیشن، بینک اکاؤنٹس) کی جگہ ایک بایومیٹرک لنکڈ نمبر لے گی۔ اس کا پائلٹ مرحلہ جولائی 2025 میں پشاور اور کوئٹہ میں شروع ہو گا، جبکہ دسمبر 2026 تک اسے پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔
آپ کے لیے یہ کیوں اہم ہے
اگر آپ غیر مقیم پاکستانی ہیں تو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ 2.0 آپ کو پیسے بھیجنے کا تیز اور سستا ذریعہ فراہم کرتا ہے—1,000 ڈالر سے زائد کی ترسیل پر فیس اب 1 فیصد تک محدود ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد کو ای کامرس کی ترقی سے کم ادائیگی پروسیسنگ فیس ملے گی، جبکہ فری لانسروں کو نئی پالیسی کے تحت آسان ڈجیٹل معاہدوں سے فائدہ ہو گا۔
طالب علموں اور نوکری تلاش کرنے والوں کے لیے NDID سرکاری وظائف، امتحانات (جیسے این ٹی ایس اور پی پی ایس سی) اور سرکاری نوکریوں کے لیے درخواستیں دینے کو آسان بنا دے گا، کیونکہ کاغذی تصدیق کی جگہ ڈیجیٹل آئی ڈی لے لے گی۔ سائبر سیکیورٹی ہیلپ لائن آپ کی مدد کرے گی اگر آپ کا بینک اکاؤنٹ یا سIM ہیک ہو جائے۔
آگے کیا ہے؟ اہم تاریخوں پر نظر رکھیں
- جولائی 2025: NDID کا پائلٹ آغاز پشاور اور کوئٹہ میں۔
- ستمبر 2025: کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں 5G کے ٹرائلز کا آغاز۔
- دسمبر 2026: پورے ملک میں NDID کا مکمل آغاز۔
- مارچ 2026: توقع ہے کہ 5G کا تجارتی آغاز ہو گا۔
PDA نے پیش رفت کو ٹریک کرنے کے لیے ایک عوامی ڈیش بورڈ بنایا ہے: www.pda.gov.pk/progress۔
آپ آج ہی یہ کام کر سکتے ہیں
- روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولیں: چند منٹوں میں اپلائی کرنے کے لیے وزٹ کریں roshandigital.pak.gov.pk۔ کسی بینک میں جانے کی ضرورت نہیں۔
- اپنی NDID اہلیت چیک کریں: PDA جلد ہی پائلٹ شہروں کے لیے رجسٹریشن کی تفصیلات کا اعلان کرے گا۔ اپ ڈیٹس کے لیے @PDA_Pakistan کو فالو کریں۔
- سائبر دھوکہ دہی کی اطلاع دیں: اگر آپ کو دھوکہ دہی کا شبہ ہو تو کال کریں 0800-11111 یا ای میل کریں cybersecurity@pda.gov.pk۔
- ڈجیٹل ادائیگیوں پر منتقل ہوں: جazzCash، ایزی پیسا، یا ایچ بی ایل کنیکٹ استعمال کریں تاکہ کم فیس اور کیش بیک آفروں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
کیا دیکھنا چاہیے
PDA کی اگلی بڑی کوشش حکومتی خدمات کے لیے AI پر مبنی کسٹمر سروس ہے، جو اوائل 2026 تک متوقع ہے۔ اتھارٹی Alipay اور PayPal کے ساتھ بھی مذاکرات کر رہی ہے تاکہ سرحد پار ادائیگیوں کو براہ راست کیا جا سکے، جس سے ریمٹینس کی لاگت مزید کم ہو سکے گی۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دیہی براڈبینڈ کی توسیع ابھی پیچھے ہے—صرف 42 فیصد گاؤں میں 4G کی سہولت ہے۔ PDA نے اس خلا کو پورا کرنے کے لیے اگست 2025 تک ایک مکمل دیہی کنیکٹیویٹی پلان پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اورنگزیب کی حمایت PDA کے کام کے لیے مضبوط سیاسی پشت پناہی کا اشارہ ہے، لیکن عملی رفتار یہ طے کرے گی کہ پاکستان کی ڈجیٹل اکانومی اڑان بھرتی ہے یا رک جاتی ہے۔ فی الحال، راستہ واضح ہے: زیادہ ڈجیٹل آئی ڈی، تیز انٹرنیٹ، اور سستے ادائیگی۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا بیوروکریسی اس رفتار کو برقرار رکھ سکے گی۔
