ملک بھر کے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں وزارت خزانہ نے بی پی ایس 2026 کے تحت ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کے اصولوں پر باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے جس سے تمام سرکاری دفاتر میں پایا جانے والا ابہام دور ہو گیا ہے۔ اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین تنخواہوں میں حالیہ تر ترمیمات کے بعد پرانے الاؤنسز کے انضمام اور ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے پریشان تھے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اور کابینہ سیکرٹریٹ کے دفاتر میں حساب کتاب کے طریقوں سے متعلق بے شمار سوالات موصول ہو رہے تھے، جس کے بعد اسلام آباد سے یہ واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
نئی وضاحت میں کیا ہدایات دی گئی ہیں؟
حکومتی نوٹیفیکیشن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پچھلے مالی سالوں میں ملنے والے ایڈہاک اضافے نئے بنیادی پے اسٹرکچر میں کیسے ضم ہوں گے۔ اگر آپ بنیادی تنخواہ کے سکیلز میں آنے والے وفاقی ملازم ہیں، تو آپ کے محکمے کو نئے فیصد اضافے کا اطلاق کرنے سے پہلے منجمد انکریمنٹس کو نکال کر بنیادی تنخواہ کا حساب لگانا ہوگا۔ نوٹیفیکیشن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ محکموں کے ڈی ڈی اوز (DDOs) تنخواہوں کی تیاری کے دوران دوہرے حساب کتاب سے گریز کریں۔
جاری کردہ ہدایات کے اہم نکات:
- موجودہ بنیادی تنخواہ کے حساب کتاب میں پرانے ایڈہاک ریلیف اجزاء کو شامل کرنے پر سخت پابندی جب تک کہ واضح طور پر ہدایت نہ کی گئی ہو۔
- اے جی پی آر اور صوبائی مالیاتی اداروں کو موجودہ ماہ کی تنخواہ کی پرچیوں کا آڈٹ کرنے کی واضح ہدایات۔
- ملازمین کی موجودہ تنخواہ کے تحفظ کو یقینی بنانا تاکہ کسی بھی ملازم کی ٹیک ہوم تنخواہ میں کمی نہ ہو۔
سرکاری ملازمین پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
ایک عام کلرک یا سویلین افسر کے لیے یہ پالیسی اپ ڈیٹ براہ راست اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ آپ کی اگلی تنخواہ میں مالی امداد صحیح طریقے سے پہنچی ہے یا نہیں۔ مہنگائی نے گزشتہ ایک سال کے دوران گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جس کی وجہ سے لاہور، کراچی اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں یوٹیوب بلوں اور گھریلو اخراجات کو سنبھالنے کے لیے الاؤنس کا ہر ایک روپیہ انتہائی اہم ہے۔
آپ کو اب کیا قدم اٹھانا چاہیے؟
اپنی اگلی تنخواہ کی پرچی کا انتظار نہ کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آپ کے محکمے نے قوانین پر درست عمل کیا ہے یا نہیں۔ آپ کو فوری طور پر وزارت خزانہ کے آفیشل پورٹل finance.gov.pk سے باضابطہ سرکولر ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیے اور اپنے ادارے کی اکاؤنٹس برانچ سے اس کا موازنہ کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو بنیادی تنخواہ کے تعین یا الاؤنس کی رقم میں کوئی فرق نظر آئے تو بلنگ سائیکل ختم ہونے سے پہلے اپنے متعلقہ ڈی ڈی او کو تحریری درخواست جمع کروائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے ہفتوں میں اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ انفرادی وزارتیں اور خود مختار ادارے ان وفاقی ہدایات کو کیسے اپناتے ہیں۔ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کے صوبائی محکمہ جاتِ خزانہ اکثر وفاقی نوٹیفیکیشنز کو دیکھ کر اپنے ملازمین کے لیے صوبائی احکامات جاری کرتے ہیں۔ مقامی ضلعی اکاؤنٹس دفاتر سے بقایا جات کی تقسیم کے شیڈول کے حوالے سے آنے والے نوٹیفیکیشنز کا انتظار کریں۔
