اسلام آباد میں جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مالیاتی خسارہ پاکستان مالی سال 2025-26 کے دوران نمایاں طور پر کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2.6 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 22 برسوں میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے کم سطح ہے۔ قومی خزانے کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے جو طویل عرصے سے بے قابو حکومتی اخراجات اور قرضوں کے بوجھ تلے دباہوا تھا۔ اس مدت کے دوران بجٹ کا خسارہ 3 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا، جو کہ مالیاتی استحکام کے پروگراموں کے تحت اخراجات پر سخت کنٹرول کی عکاسی کرتا ہے۔

روزمرہ اشیائے خوردونوب اور مہنگے یوٹیوب بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے عام شہری کے لیے، یہ معاشی اشاریہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نے آخرکار اپنی حد سے زیادہ قرض لینے کی عادات پر قابو پانا شروع کر دیا ہے۔ جب ریاست اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے نوٹ چھاپنا یا کمرشل بینکوں سے بھاری قرض لینا بند کرتی ہے، تو اس کے نتیجے میں بینکوں کی شرح سود میں کمی کا رستہ ہموار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی کاروباروں کو سستے قرضے ملیں گے اور اگر آپ بینک فنانسنگ کے ذریعے گھر یا گاڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کے لیے بھی مالی لاگت میں کمی آ سکتی ہے۔

مالی سال 2025-26 میں خسارے میں کمی کی وجوہات

خسارے میں یہ بڑی کمی اچانک نہیں ہوئی۔ وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے معاشی ماہرین کے مطابق سال بھر کے دوران اخراجات پر سخت پابندیوں اور ٹیکس وصولی کی بہتر کوششوں کو بروئے کار لایا گیا۔ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کو سختی سے مانیٹر کیا گیا، جبکہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے پیش کردہ بجٹ سرپلس نے اجتماعی طور پر قومی مالیاتی توازن کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

  • مالی سال 2025-26 کے دوران بجٹ خسارہ 3 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔
  • کل مالیاتی خسارہ محدود ہو کر جی ڈی پی کا 2.6 فیصد رہ گیا۔
  • یہ کارکردگی خسارے سے جی ڈی پی کے تناسب میں 22 سال کی کم ترین سطح کی عکاسی کرتی ہے۔
  • صوبائی سرپلس نے اکاؤنٹس کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مہنگائی اور شرح سود پر اثرات

جب مالیاتی خسارہ پاکستان اتنی ڈرامائی حد تک سکڑ جاتا ہے، تو مرکزی بینک پر پالیسی ریٹ کو انتہائی اونچی سطح پر رکھنے کا دباؤ کم ہونے لگتا ہے۔ مہنگائی کے امکانات مستحکم ہو جاتے ہیں کیونکہ حکومت اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے قرض لینے پر انحصار نہیں کر رہی۔ مالیاتی منڈیوں کے تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ یہ مالیاتی استحکام مرکزی بینک کے آئندہ مانیٹری پالیسی فیصلوں میں زیادہ نرم رویہ اپنانے کی راہ ہموار کرے گا۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کوئی چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں یا ذاتی سرمایہ کاری کرتے ہیں، تو اسٹیٹ بینک کے آئندہ شرح سود کے اعلانات پر گہری نظر رکھیں۔ حکومت کی طرف سے کم قرض لینے کا مطلب عام طور پر ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) پر منافع کی شرح میں کمی ہے، جو جلد ہی کمرشل قرضوں کی شرح میں بھی جھلکتی دکھائی دے گی۔ اگر آپ کے پاس فلوٹنگ ریٹ کے قرضے ہیں، تو اپنے قرض کی ادائیگی کے شیڈول کا جائزہ لینے کا یہ بہترین وقت ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

بین الاقوامی قرض دہندگان کے آئندہ سہ ماہی جائزوں اور سال کے دوسرے نصف حصے میں وزارت خزانہ کی طرف سے ترقیاتی اخراجات کے نفاذ پر نظر رکھیں۔ اگرچہ کاغذ پر کم خسارہ بہت اچھا لگتا ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان ہندسوں کو حاصل کرنے کے لیے کہیں بنیادی ڈھانچے کے اہم اخراجات اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرامز (PSDP) کو تو نظر انداز نہیں کیا گیا، کیونکہ طویل مدتی ترقی کے لیے مالیاتی نظم و ضبط اور نتیجہ خیز عوامی سرمایہ کاری کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔