پاکستان کے مختلف حصوں میں ڈوبنے کے افسوسناک واقعات میں پانچ افراد کی ہلاکت نے انتظامیہ اور شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حیدرآباد کے علاقے حسین آباد کے قریب دریائے سندھ میں ہفتے کی رات 14 جون 2025 کو تین نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔
حیدرآباد میں ڈوبنے کا افسوسناک واقعہ
مقامی ذرائع کے مطابق تینوں نوجوان ہفتے کی رات دریائے سندھ میں نہانے کے لیے اترے تھے جہاں تیز بہاؤ کی وجہ سے وہ گہرے پانی میں چلے گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، تاہم اتوار 15 جون 2025 کی صبح تک جاری رہنے والے تلاش کے آپریشن کے باوجود تاحال لاشوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ تیز ہے اور گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے غوطہ خوروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تلاشی کا عمل تاحال جاری ہے، لیکن حکام نے شہریوں کو دریا کے ان حصوں میں جانے سے سختی سے منع کیا ہے۔
ڈوبنے کے واقعات سے کیسے بچا جائے؟
پاکستان میں گرمی کے موسم میں نہروں اور دریاؤں میں نہانا ایک معمول بن جاتا ہے، جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ کسی بھی ڈوبنے کے واقعے سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں:
- دریا یا نہر کے ان حصوں میں ہرگز نہ جائیں جہاں نہانے پر پابندی ہو۔
- بچوں کو پانی کے قریب اکیلا نہ چھوڑیں اور ان کی سخت نگرانی کریں۔
- اگر آپ تیراکی کے ماہر نہیں ہیں تو پانی میں اترنے کی کوشش نہ کریں۔
- کسی کو ڈوبتا دیکھ کر خود کودنے کے بجائے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو مدد کے لیے کال کریں۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں تلاشی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے افراد دریا کے کنارے موجود ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور وارننگ بورڈز لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں کے دوران دریا کے کنارے ہجوم نہ لگائیں تاکہ ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے میں مشکل پیش نہ آئے۔
