بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں فوڈ سیفٹی حکام نے معروف فائیو سٹار ہوٹلوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے صحت کے سنگین مسائل کا انکشاف کیا ہے۔ چھاپوں کے دوران ان مہنگے ہوٹلوں سے نہ صرف خراب گوشت برآمد ہوا بلکہ دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات بھی زائدالمیعاد پائی گئیں۔
بھارت میں فوڈ سیفٹی کے معیارات پر سوالات
یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب صارفین کی جانب سے معیار کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی تھیں۔ حکام نے ہوٹلوں کے کچن اور سٹوریج ایریاز کی تلاشی لی تو وہاں موجود گوشت کو انتہائی غیر معیاری اور انسانی صحت کے لیے مضر پایا گیا۔ حیران کن طور پر، جن ہوٹلوں کو صفائی اور اعلیٰ معیار کے لیے جانا جاتا ہے، وہاں زائدالمیعاد اشیاء کا استعمال عام پایا گیا جو کہ انتظامیہ کی سنگین غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام نے موقع پر ہی ناقص اشیاء کو قبضے میں لے لیا ہے اور ہوٹل انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ان ہوٹلوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں اور اگر خلاف ورزی دوبارہ پائی گئی تو ان کے لائسنس بھی منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
صارفین کے لیے احتیاطی تدابیر
اگرچہ یہ واقعہ بھارت میں پیش آیا، لیکن یہ خبر عام صارفین کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ کسی بھی فائیو سٹار ہوٹل کے نام پر آنکھ بند کر کے اعتماد نہ کریں۔ باہر کھانا کھاتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- ہوٹل کے داخلی راستے پر فوڈ سیفٹی لائسنس کی تصدیق کریں۔
- کھانے کے ماحول اور عملے کی صفائی پر توجہ دیں۔
- اگر کھانے کی بو یا ذائقہ غیر معمولی لگے تو فوری طور پر شکایات درج کروائیں۔
- کسی بھی مشکوک صورتحال میں مقامی فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں۔
مستقبل میں کیا متوقع ہے؟
فوڈ سیفٹی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں تمام بڑے ہوٹلوں اور ریستورانوں کی اچانک چیکنگ کا عمل تیز کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ ان ہوٹلوں کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا تاکہ عوام کو آگاہ کیا جا سکے۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شہر کے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹس پر جاری ہونے والے الرٹس پر نظر رکھیں۔
