افغانستان میں طالبان حکومت کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران ملک کو شدید انسانی بحران کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 اگست 2021 کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عبوری انتظامیہ نے خواتین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع بتدریج محدود کر دیے ہیں۔
پاکستان کے قارئین کے لیے یہ صورتحال براہ راست جغرافیائی سیاسی اور معاشی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کی طویل مشترکہ سرحد، تجارت اور افغان مہیناجرین کی موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کابل میں ہونے والی پیش رفت اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے حالات کو متاثر کرتی ہے۔
خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر بڑھتی ہوئی پابندیاں
خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر عائد پابندیاں عالمی سطح پر شدید تنقید کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ افغان خواتین اور لڑکیوں کو سیکنڈری اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے سے روکا گیا ہے، جبکہ غیر سرکاری تنظیموں اور سرکاری دفاتر میں ان کے کام کرنے پر بھی قدغن ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں نے لاکھوں خواتین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
انسانی بحران اور معاشی زوال
بنیادی آزادیوں کے علاوہ ملک کا معاشی ڈھانچہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بین الاقوامی امدادی فنڈز میں کمی اور پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ صحت کا بنیادی ڈھانچہ بچوں میں غذاییت کی کمی سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہے، بالخصوص کابل اور قندهار سے باہر کے صوبوں میں حالات زیادہ ابتر ہیں۔
پاکستان اور خطے کے لیے اثرات
پاکستان پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور سکیورٹی امور پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی حکام سرحد پار نقل و حرکت اور مہاجرین کی واپسی کے عمل کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ علاقائی استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ سفارتی ذرائع سے کس طرح انسانی امداد اور بنیادی حقوق کے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
- بین الاقوامی امدادی اداروں کی جانب سے افغان خاندانوں کے لیے امدادی فنڈز کی فراہمی کا مشاہدہ کریں۔
- اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے سرحدی امور اور مہاجرین سے متعلق بیانات پر نظر رکھیں۔
- کابل اور علاقائی دارالحکومتوں کے درمیان سفارتی رابطوں کی پیش رفت کا جائزہ لیں۔
