15 اگست 2026 کو افغانستان نے وہ دن مکمل کر لیا جب طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔ اس پانچ سالہ دور میں ملک انسانی، اقتصادی اور سیکیورٹی بحران کی انتہا پر پہنچ گیا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان کی 70 فیصد آبادی یعنی 29.2 ملین افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے جو 2024 میں 24 ملین تھے۔ اسی دوران پاکستان میں 2.8 ملین افغان مہاجرین مقیم ہیں جن میں سے 1.7 ملین رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1.1 ملین غیر دستاویزی ہیں۔
- انسانی بحران کی شدت: اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پانچ سال قبل 24 ملین افراد کو امداد کی ضرورت تھی جو اب بڑھ کر 29.2 ملین ہو گئی ہے۔ پانچ سالہ بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح بعض صوبوں میں 45 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ اسپتالوں میں 2021 کے مقابلے میں بچوں کی اموات میں تین گنا اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
- معاشی زوال: افغانستان کی جی ڈی پی 2021 کے مقابلے میں 35 فیصد گر چکی ہے جبکہ افغان کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 70 فیصد کمزور ہو گئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 90 فیصد افغان اب روزانہ 1.90 ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہے ہیں۔
- خواتین کے حقوق کا خاتمہ: طالبان کے احکامات کے تحت خواتین کو زیادہ تر ملازمتوں، یونیورسٹیوں اور یہاں تک کہ بغیر مرد سرپرست کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ 2021 کے بعد سے 11 لاکھ سے زائد لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں جبکہ خواتین کی سربراہی والے این جی اوز بند کر دیے گئے ہیں جس سے سماجی خدمات کو شدید دھچکا لگا ہے۔
- سکیورٹی خلا: طالبان کے دعووں کے باوجود افغانستان میں مسلح گروہ جیسے داعش-خ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس خلا کا فائدہ اٹھایا ہے۔ افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملوں میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2026 میں اب تک 12 بڑے حملے ہو چکے ہیں جن میں 142 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
- پاکستان پر بوجھ: اسلام آباد نے 2021 سے اب تک افغان مہاجرین پر 500 ارب روپے سے زائد خرچ کیے ہیں۔ حکومت نے غیر دستاویزی افغانوں کی جبری واپسی کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے تحت 2023 سے اب تک 4 لاکھ سے زائد افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے مگر نئے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
پاکستان کے دروازے پر آفت کیوں ٹکرا رہی ہے
اگست 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان کی تمام تر ادارے تباہ ہو گئے۔ اس کے بعد بین الاقوامی برادری نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات کے تحت امداد روک دی جبکہ پاکستان، افغانستان کا سب سے بڑا پڑوسی ہونے کے ناطے مہاجرین کا سب سے بڑا پناہ گاہ بنا۔
- مہاجرین کی آمد: پاکستان میں 17 لاکھ رجسٹرڈ اور 11 لاکھ غیر دستاویزی افغان مہاجرین مقیم ہیں جن میں سے زیادہ تر خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر ہیں۔ یہاں اسکولوں اور اسپتالوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
- معاشی دباؤ: مہاجرین کی آمد کے باعث پشاور اور کوئٹہ میں کرایوں میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ روزانہ مزدوری کرنے والوں کی آمدنی میں 30 فیصد کمی آئی ہے کیونکہ ملازمتوں کے لیے مقابلہ بڑھ گیا ہے۔ وفاقیBoard of Revenue (FBR) کے مطابق افغانستان کے ساتھ غیر رسمی تجارت جو 2021 میں 2.5 ارب ڈالر سالانہ تھی اب 60 فیصد گر چکی ہے۔
- سکیورٹی خطرات: ٹی ٹی پی جس کا ٹھکانہ افغانستان میں ہے نے 2026 میں اب تک پاکستان میں 87 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں 142 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کی شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں کارروائیاں اس گروپ کے ٹھکانوں کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں کیونکہ طالبان حکام ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
پاکستان کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں
اسلام آباد نے سرحدی کنٹرول کو سخت کرنے کے ساتھ طالبان سے مذاکرات کا دوہرا راستہ اختیار کیا ہے مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے۔
- جبری واپسیاں: حکومت نے 2023 سے اب تک 4 لاکھ سے زائد غیر دستاویزی افغانوں کو واپس بھیجا ہے جن میں سے 15 ہزار صرف جولائی 2026 میں بھیجے گئے۔ حکومت سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتی ہے مگر انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ واپس بھیجے گئے افراد کو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں ظلم و ستم کا سامنا ہے۔
- سرحدی باڑ: پاکستان نے ڈورنڈ لائن پر 2600 کلومیٹر طویل باڑ کی 90 فیصد تعمیر مکمل کر لی ہے مگر اسمگلروں اور دہشت گردوں نے اب بھی اس میں دراڑوں کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اس پر 45 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
- ک diplomasi تعطل: اسلام آباد اور کابل کے مابین مذاکرات ٹی ٹی پی پر کارروائی کے مطالبے پر رک گئے ہیں۔ طالبان اس گروپ کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ثبوت موجود ہیں۔
- کیا کمی ہے: ایک مربوط واپسی کا منصوبہ۔ حکومت نے رضاکارانہ واپسی کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے ہیں مگر 2024 سے اب تک صرف 5 ہزار مہاجرین نے اس کے لیے رضاکارانہ طور پر دستخط کیے ہیں۔ اسی دوران اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے 3.2 ارب ڈالر کی امدادی اپیل کی ہے جو صرف 22 فیصد تک پوری ہو سکی ہے۔
آپ پر کیا اثر پڑے گا
اگر آپ پاکستانی ہیں تو یہ بحران آپ پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے چاہے وہ ٹیکسوں میں اضافے، اسپتالوں میں بھیڑ یا دہشت گردی کے خطرات کی شکل میں ہو۔
- آپ کی جیب: حکومت کی مہاجرین پر خرچ نے پاکستان کے سالانہ بجٹ خسارے میں 15 فیصد اضافہ کیا ہے جو 2021 سے اب تک کا ہے۔ توقع ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہو گا یا ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی کی جائے گی۔
- آپ کی سکیورٹی: ٹی ٹی پی کی واپسی کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چیک پوسٹس، کرفیو اور سفر پر پابندیاں بڑھ گئی ہیں۔ جون 2026 میں پشاور میں ایک خودکش دھماکے میں 18 افراد ہلاک ہوئے جن میں دو پولیس والے بھی شامل تھے۔
- آپ کی خیرات: افغان مہاجر کیمپوں میں عطیات میں 40 فیصد کمی آئی ہے جو 2024 سے اب تک جاری ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی جیسے این جی اوز خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی شدید کمی کی رپورٹ کر رہے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اگلے چھ ماہ فیصلہ کن ہوں گے۔ اہم تاریخیں اور واقعات جن پر نظر رکھنی چاہیے:
- 15 نومبر 2026: پاکستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر دستاویزی افغانوں کی جبری واپسی کی پالیسی پر۔ اگر فیصلہ منفی ہوتا ہے تو حکومت کو جبری واپسیاں روکنی پڑیں گی۔
- دسمبر 2026: افغانستان میں سخت ترین سردی کا موسم۔ انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا کیونکہ برف باری سے دور دراز علاقوں تک رسد کے راستے بند ہو جائیں گے۔ اقوام متحدہ نے "تباہ کن" خوراک کی کمی کی پیش گوئی کی ہے۔
- مارچ 2027: پاکستان کے عام انتخابات۔ مہاجرین کی پالیسی اور سرحدی سکیورٹی اہم انتخابی ایشوز ہوں گے جن پر سخت گیر جماعتوں کی جانب سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔
- جون 2027: طالبان کے اقتدار میں پانچ سال مکمل ہونے پر دوسرا سالانہ جشن۔ اگر گروپ معیشت کو مستحکم کرنے یا انسانی حقوق کو بہتر بنانے میں ناکام رہتا ہے تو بین الاقوامی تنہائی مزید گہری ہو جائے گی اور پاکستان پر بوجھ بڑھے گا۔
فی الحال افغان عوام تشدد اور ناامیدی کے دور میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان اس بحران کے اثرات جھیل رہا ہے۔ سوال اب یہ نہیں ہے کہ کیا بحران پھیلے گا بلکہ یہ ہے کہ کتنا دور جائے گا اور پاکستان اس بوجھ کو کتنی دیر برداشت کر سکے گا۔
