کابل سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال گزر چکے ہیں، لیکن اس دوران افغانستان کے حالات بہتر ہونے کے بجائے ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملک کی معاشی اور سماجی حالت میں شدید گراوٹ آئی ہے اور عام شہریوں کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران خواتین اور بچیوں کے حقوق بالخصوص ان کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی اور سرکاری و نجی شعبوں میں کام کرنے پر قدغن کی وجہ سے معاشرتی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو معاشی اور تعلیمی دھارے سے باہر رکھنے کے اثرات طویل المدتی اور تباہ کن ہوں گے۔

معاشی بحران کابل انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ غیر ملکی ذخائر منجمد ہونے اور بین الاقوامی امداد محدود ہونے کی وجہ سے ملک بنیادی درآمدات کے لیے بیرونی امداد اور علاقائی تجارت پر انحصار کرتا ہے۔ بے روزگاری کی شرح بلند ہے اور لاکھوں افراد خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

آئندہ دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ بین الاقوامی سفارتی سطح پر کیا پیشرفت ہوتی ہے اور کابل انتظامیہ تعلیم اور روزگار کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں کیا نرمی کرتی ہے۔ اگر آپ کے افغانستان کے ساتھ تجارتی یا خاندانی روابط ہیں تو علاقائی خبروں اور سفارتی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھیں۔