گوشت کھانے والے خطرناک بیکٹیریا (Flesh-eating bacteria) کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے عوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ طبی ماہرین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن عام شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں اور معمولی زخموں کو بھی نظر انداز نہ کریں۔

گوشت کھانے والا خطرناک بیکٹیریا کیا ہے؟

طبی اصطلاح میں اسے 'نیکروٹائزنگ فاشائٹس' (Necrotizing fasciitis) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نایاب لیکن انتہائی جارحانہ انفیکشن ہے جو جلد، چربی اور پٹھوں کے اوپر موجود بافتوں (tissues) کو تیزی سے تباہ کر دیتا ہے۔ یہ بیکٹیریا جسم میں جلد پر موجود چھوٹے زخموں، کٹاؤ یا رگڑ کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔ ایک بار جسم میں داخل ہونے کے بعد، یہ تیزی سے پھیلتا ہے اور ایسے زہریلے مادے خارج کرتا ہے جو ارد گرد کے ٹشوز کو ہلاک کر دیتے ہیں۔

علامات اور انتباہی اشارے

اگر آپ کو حال ہی میں کوئی چوٹ لگی ہے تو درج ذیل علامات پر گہری نظر رکھیں:
- زخم والی جگہ پر شدید درد جو زخم کے سائز کے مقابلے میں غیر معمولی ہو۔
- زخم کے ارد گرد سرخی، سوجن اور گرمائش کا تیزی سے پھیلنا۔
- بخار، کپکپاہٹ اور شدید تھکاوٹ، جو اس بات کی علامت ہے کہ انفیکشن جسم میں پھیل رہا ہے۔
- جلد پر چھالے پڑنا یا رنگت کا نیلا یا سیاہ ہو جانا، جو ٹشوز کے مرنے کی نشانی ہے۔

بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

اس انفیکشن سے بچنے کا بہترین طریقہ حفظانِ صحت کا خیال رکھنا ہے۔
- کسی بھی چھوٹے زخم، کٹ یا چھالے کو فوری طور پر صابن اور صاف پانی سے دھوئیں اور جراثیم کش دوا کا استعمال کریں۔
- زخم کو مکمل طور پر بھرنے تک صاف اور خشک پٹی سے ڈھانپ کر رکھیں۔
- اگر آپ کو کوئی زخم ہے تو سوئمنگ پول، ہاٹ ٹب یا کسی بھی کھلے پانی کے ذخائر میں نہ جائیں، کیونکہ وہاں جراثیم کے پنپنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
- اگر زخم والی جگہ پر درد بڑھ رہا ہو یا بخار ہو جائے تو فوراً قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔

آگے کیا کرنا چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مرض کی تشخیص بروقت ہو جائے تو علاج ممکن ہے۔ علاج میں عام طور پر طاقتور اینٹی بائیوٹکس کا استعمال اور متاثرہ ٹشوز کو ہٹانے کے لیے سرجری شامل ہوتی ہے۔ شوگر کے مریض یا وہ افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہے، انہیں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔ کسی بھی معمولی زخم کو نظر انداز نہ کریں اور اگر آپ کو انفیکشن کی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔