خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمت میں کے پی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات نے عوام کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے خوراک، ڈاکٹر محمد اسرار خان نے تصدیق کی ہے کہ صوبائی حکومت آٹے کی سرکاری نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ایک عام شہری کے لیے، خاص طور پر پشاور اور دیگر اضلاع میں، یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی بجٹ پر بوجھ ہیں، اور آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت گھر کے ماہانہ راشن کا سب سے بڑا حصہ ہوتی ہے۔ اگر حکومت سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو آپ کو مقامی دکانوں پر اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں قیمتوں میں کمی دیکھنے کو ملے گی۔
کے پی میں آٹے کی قیمت اور سرکاری اقدامات
حکومتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد فلور ملز سے لے کر ریٹیل اسٹورز تک سپلائی چین کی نگرانی کرنا ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ مل گیٹ پر قیمتیں کچھ اور ہوتی ہیں اور دکاندار آپ سے زیادہ رقم وصول کرتے ہیں۔ موجودہ اقدامات کا مقصد اس فرق کو ختم کرنا اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کرنا ہے۔
- فراہمی کا تسلسل: حکومت گندم کے کوٹے کو صرف آٹے کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے پر زور دے رہی ہے۔
- قیمتوں کی نگرانی: ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مارکیٹ میں چھاپے مار کر سرکاری نرخوں سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔
- رجسٹرڈ ڈیلرز: آٹے کی تقسیم کو رجسٹرڈ ڈیلرز کے ذریعے مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔
آپ کے بجٹ پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر سرکاری نرخوں پر عمل درآمد ہوتا ہے تو آپ کے ماہانہ سودا سلف کے بل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جب مارکیٹ میں سپلائی کم ہوتی ہے تو دکاندار 20 کلو کے تھیلے پر 200 سے 500 روپے تک اضافی وصول کر لیتے ہیں۔ سرکاری قیمت یقینی بنانے کا مطلب ہے کہ یہ اضافی رقم آپ کی جیب میں رہے گی۔ تاہم، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا آٹا واقعی دکانوں پر دستیاب ہے یا صرف کاغذوں پر۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
بطور صارف، آپ کو محتاط رہنا چاہیے۔ اگر کوئی دکاندار سرکاری نرخوں سے زیادہ پیسے مانگے تو آپ کو ضلعی انتظامیہ کی ہیلپ لائن یا واٹس ایپ نمبر پر شکایت کرنی چاہیے۔ اپنے ضلع کی ویب سائٹ چیک کریں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے علاقے کے لیے سرکاری ریٹ کیا مقرر کیا گیا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگلے دو ہفتوں تک اپنے مقامی بازار میں آٹے کی دستیابی پر نظر رکھیں۔ اگر حکومتی اقدامات کامیاب رہے تو مارکیٹ میں قیمتیں سرکاری نرخوں کے قریب آ جائیں گی۔ اگر اس کے باوجود قیمتیں زیادہ رہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ سپلائی چین میں اب بھی مسائل موجود ہیں۔ اپنی مقامی مارکیٹ کا جائزہ لیتے رہیں کیونکہ حکومتی دعووں کی کامیابی کا دارومدار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ زمینی حقائق پر ہے۔
