پاکستان میں آٹے کی قیمت میں اچانک بڑے اضافے نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ لاہور سمیت ملک کے مختلف بڑے شہروں میں فائن آٹے کی قیمت میں 15 روپے فی کلو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد آٹے کی نئی قیمت 137 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے 122 روپے تھی۔
آٹے کی قیمت میں اضافے کے اثرات
بنیادی ضرورت کی اس شے کی قیمت میں یکدم اضافے سے متوسط اور نچلے طبقے کے گھرانوں کے ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ریٹیلرز نے نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا ہے، جس سے عام گاہک کو خریداری کے وقت شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
سونے کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ
دوسری جانب ملک میں مہنگائی کا ایک اور جھٹکا صرافہ مارکیٹ سے آیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 4 ہزار 200 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 63 ہزار 936 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
شہریوں کے لیے تجاویز
- اپنے قریبی یوٹیلیٹی اسٹورز کا دورہ کریں جہاں سرکاری نرخوں پر آٹا فراہم کیا جاتا ہے۔
- مارکیٹ میں قیمتوں کے فرق پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی دکاندار کی جانب سے غیر قانونی منافع خوری سے بچا جا سکے۔
- اپنے گھریلو بجٹ کو موجودہ معاشی صورتحال کے مطابق ترتیب دیں۔
آگے کیا ہوگا؟
شہریوں کو اب اس بات پر نظر رکھنی ہوگی کہ کیا صوبائی حکومتیں آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی نوٹس لیتی ہیں یا نہیں۔ انے والے دنوں میں گندم کی سپلائی اور حکومتی پالیسیوں کے اثرات آٹے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
