پاکستان میں food prices in pakistan (اشیائے خوردونوش کی قیمتیں) اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر ہڑتال کے باعث سپلائی چین مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے۔ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آٹا، سبزی، پھل اور مرغی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ٹرانسپورٹ ہڑتال اور اشیائے خوردونوش کی صورتحال
ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں اور انتظامی مسائل کے خلاف شروع کی گئی ہڑتال کے باعث مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت رک گئی ہے۔ چونکہ کوئٹہ اپنی زیادہ تر ضروریات کے لیے پنجاب اور دیگر صوبوں سے آنے والے سامان پر انحصار کرتا ہے، اس لیے سپلائی معطل ہونے سے مقامی منڈیوں میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔ دکانداروں نے مال کی کمی کا جواز بنا کر قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے۔
مقامی منڈیوں میں مرغی کے گوشت کی قیمت میں ایک ہی دن میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سبزیاں اور پھل، جو عام طور پر راتوں رات منڈیوں تک پہنچتے ہیں، اب نایاب ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ریٹیل سطح پر قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ آٹے کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے شہریوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال
کوئٹہ کی تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ مال بردار گاڑیوں کی بندش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خوروں نے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے، جس سے سپلائی اور ڈیمانڈ میں فرق بڑھ گیا ہے۔ کولڈ اسٹوریج میں موجود اسٹاک بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے جسے دوبارہ بھرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ابھی تک ریٹیل سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خوفزدہ ہو کر خریداری (panic buying) سے گریز کریں کیونکہ اس سے مصنوعی قلت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کوئٹہ یا کسی متاثرہ علاقے میں مقیم ہیں، تو اپنی مقامی مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھیں۔ غیر ضروری خریداری سے گریز کریں اور صرف اشد ضروری اشیاء پر توجہ دیں۔ ضلعی انتظامیہ یا ڈپٹی کمشنر آفس کے سوشل میڈیا پیجز کو فالو کریں تاکہ اگر ہڑتال کے دوران خوراک کی ترسیل کے لیے کوئی 'گرین کوریڈور' بنایا جائے تو آپ کو بروقت اطلاع مل سکے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
حکومت اور ٹرانسپورٹ یونین کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر نظر رکھیں۔ ہڑتال کی مدت ہی آئندہ چند دنوں میں قیمتوں کے تعین کا اہم ترین عنصر ہوگی۔ اگر ہڑتال اگلے 72 گھنٹوں سے زیادہ جاری رہتی ہے، تو ڈیری مصنوعات اور دیگر درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
