پاکستان میں food safety crisis in pakistan اس وقت ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے جہاں عام شہری اپنے گھروں میں استعمال ہونے والے بنیادی اشیاء جیسے گھی، کوکنگ آئل اور دودھ کے معیار پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ مارکیٹوں میں ناقص اور ملاوٹ شدہ اشیاء کی بھرمار نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا وہ جو کچھ کھا رہے ہیں وہ ان کی صحت کے لیے محفوظ بھی ہے یا نہیں۔
خوراک کا بحران اور ہماری صحت
ملک بھر سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق دودھ میں کیمیکل، یوریا اور ڈیٹرجنٹ کی ملاوٹ عام ہو چکی ہے۔ اسی طرح، غیر معیاری کوکنگ آئل اور گھی میں مضرِ صحت چربی اور پرانے تیل کا استعمال کیا جا رہا ہے جو انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہے۔ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے طے کردہ معیارات پر بہت سی چھوٹی اور غیر رجسٹرڈ کمپنیاں پورا نہیں اتر رہیں۔
- دودھ کی ملاوٹ: شہری علاقوں میں دودھ کو گاڑھا کرنے اور محفوظ رکھنے کے لیے خطرناک کیمیکلز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
- گھی اور تیل: غیر معیاری گھی میں ٹرانس فیٹس کی مقدار حد سے زیادہ ہے، جس سے دل کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
- انتظامی غفلت: فوڈ اتھارٹیز کے پاس عملے کی کمی کی وجہ سے چھوٹے دکانداروں اور غیر رجسٹرڈ کارخانوں کی نگرانی ممکن نہیں ہو پا رہی۔
عوام کے لیے حفاظتی تدابیر
بطور صارف آپ کو خود محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیشہ ایسی مصنوعات خریدیں جن پر PSQCA کا سرٹیفیکیشن مارک موجود ہو۔ کھلے دودھ کے بجائے پیکٹ بند دودھ کو ترجیح دیں اور کوشش کریں کہ معروف برانڈز کا انتخاب کریں جو اپنی کوالٹی کنٹرول رپورٹس جاری کرتے ہیں۔ گھی اور تیل خریدتے وقت ہمیشہ ایکسپائری ڈیٹ ضرور چیک کریں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) اور سندھ فوڈ اتھارٹی (SFA) کی جانب سے جلد ہی نئے معائنہ قوانین متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔ اگر آپ کو کسی دکان یا کارخانے میں ملاوٹ کا شبہ ہو تو متعلقہ فوڈ اتھارٹی کے ہیلپ لائن نمبر یا ویب پورٹل پر فوری شکایت درج کروائیں۔ حکومت کی جانب سے آئندہ چند ماہ میں ناقص خوراک بیچنے والوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کی توقع کی جا رہی ہے۔
