غیر ملکی سرمایہ کاروں نے جولائی 2026 کے دوران پاکستان سے 261 ملین ڈالر کے منافع اور منافع بخش حصص (ڈیویڈنڈ) بیرون ملک منتقل کر دیے، جو نئے مالی سال کے آغاز میں کارپوریਟ کیپٹل کی نقل و حرکت میں ایک اہم تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بیرون ملک مقیم کمپنیوں نے مالی سال 2026-27 کے پہلے مہینے میں مجموعی طور پر 261.4 ملین ڈالر باہر نکالے۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے اسی مہینے کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے نکالے گئے 295 ملین ڈالر کے مقابلے میں 11.5 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
منافع کی منتقلی کا رجحان اور اقتصادی اثرات
پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کارپوریشنز جب مقامی مارکیٹ میں آمدنی حاصل کرتی ہیں تو وہ اپنے مقامی کرنسی کے ریونیو کو غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کر کے اپنی مادر کمپنیوں کو واپس بھیجتی ہیں۔ اگرچہ منافع کی بیرون ملک منتقلی میں کمی بعض اوقات زر مبادلہ کی مارکیٹ میں تاخیر یا پالیسی کے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے، تاہم ایک ہی مہینے میں 260 ملین ڈالر سے زائد کی رقم کا باہر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اب بھی اپنے بیلنس شیٹس کو صاف کر رہی ہیں اور اپنے بین الاقوامی شیئر ہولڈرز کو رقوم کی ادائیگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
زر مبادلہ کے ذخائر کے لیے صورتحال
معاشی استحکام کی کوششوں میں مصروف پاکستانی معیشت کے لیے ملک سے باہر جانے والا ہر ڈالر اہمیت رکھتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی، درآمدی بلوں اور کارپوریٹ منافع کی منتقلی کا مسلسل دباؤ رہتا ہے۔ اگرچہ جولائی 2025 کے 295 ملین ڈالر کے مقابلے میں 11.5 فیصد کمی نے مرکزی بینک کو کچھ ریلیف فراہم کیا ہے، لیکن کیپٹل کی یہ بڑی نقل و حرکت بتاتی ہے کہ توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن اور اشیائے خوردونوش کے شعبوں میں غیر ملکی کاروبار کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
آئندہ کے لیے کیا دیکھنا ہوگا
مالیاتی تجزیہ کار اسٹیٹ بینک کے اگلے ماہانہ بلیٹن کا بغور مشاہدہ کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ کمی کا رجحان پہلی سہ ماہی میں بھی جاری رہتا ہے یا نہیں۔ اگر آپ مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھتے ہیں تو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے بہاؤ اور منافع کی اس بیرونی منتقلی کے درمیان توازن کا جائزہ لیں۔ ملٹی نیشنل اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد مستحکم رکھنے کے لیے آنے والے مہینوں میں پائیدار شرح مبادلہ اور قابلِ پیشگوئی مالیاتی پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔
