وفاقی حکام کی جانب سے جاری کردہ نئے رہنما خطوط کے تحت اب غیر ملکی صحافیوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر سفر کرنے کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کرنا ہوگا۔ ملک میں کام کرنے والے بین الاقوامی میڈیا کے عملے کو کسی بھی خبر یا رپورٹنگ کی غرض سے ان تین بڑے شہری مراکز سے باہر جانے سے پہلے وزارت اطلاعات و نشاط سے اجازت نامہ لینا ہوگا۔ تازہ ترین ضابطہ تمام تسلیم شدہ اور وزٹنگ غیر ملکی نمائندوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے جو دیگر اضلاع اور صوبوں میں کوریج کے خواہشمند ہیں۔
نئی سفری پابندیوں کا پس منظر
یہ نیا حکم نامہ پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی رپورٹرز پر انتظامی کنٹرول کو مزید سخت کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے پہلے بین الاقوامی پریس کے نمائندوں کو ویزا اور پریس کارڈ کے حصول کے بعد نقل و حرکت میں کافی آسانی حاصل تھی۔ اب نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت، اسلام آباد، لاہور یا کراچی کی حدود سے باہر کسی بھی فیلڈ اسائنمنٹ، انٹرویو یا دستاویزی فلم کی شوٹنگ کے لیے وزارتِ اطلاعات سے پیشگی تحریری اجازت لینا لازمی ہوگی۔
فیلڈ رپورٹرز اور بیورو چیفس کو اب روانگی کی تاریخ سے کافی پہلے تفصیلی سفری شیڈول جمع کرانا ہوگا۔ حکام ہر درخواست کا الگ سے جائزہ لینے کے بعد ہی لازمی کلیئرنس جاری کریں گے۔
علاقائی کوریج پر پڑنے والے اثرات
آزاد رپورٹرز اکثر بریکنگ نیوز یا تحقیقاتی کہانیوں کے لیے دور دراز علاقوں کا فوری رخ کرتے ہیں۔ یہ نئی بیوروکریٹک رکاوٹیں خبریں جمع کرنے کے عمل کو سست کر سکتی ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ کے دیہی علاقوں یا پنجاب کے اندرونی حصوں کا دورہ کرنے والے نمائندوں کو کاغذی کارروائی مکمل ہونے تک طویل انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
- سرکاری چینلز کے ذریعے پیشگی درخواست جمع کرانا لازمی
- درخواست کے ساتھ مخصوص سفری تاریخیں اور روٹ کا نقشہ فراہم کرنا ہوگا
- پروسیسنگ کا وقت مکمل طور پر وفاقی اطلاعاتی حکام کے ہاتھ میں ہوگا
- بڑے شہروں سے باہر ہنگامی خبروں کی کوریج میں ممکنہ تاخیر
میڈیا ہاؤسز کو اب کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کسی بین الاقوامی ادارے سے وابستہ ہیں یا پاکستان میں بطور غیر ملکی رپورٹر کام کر رہے ہیں، تو آپ کو فوری طور پر ان نئی پابندیوں کے مطابق لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ درخواست کے نئے فارمز اور طریقہ کار کی معلومات کے لیے براہ راست وزارتِ اطلاعات و نشاط کے پریس ونگ سے رابطہ کریں۔ باہر جانے کے کسی بھی منصوبے کے لیے اضافی وقت رکھیں تاکہ بیوروکریٹک تاخیر سے نمٹا جا سکے۔ سفر کے دوران اپنے منظور شدہ این او سی کی کاپیاں ہمیشہ اپنے پاس رکھیں کیونکہ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پر اس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا کے ضوابط میں آئندہ کیا ہوگا
صحافتی تنظیمیں اس بات کا بغور مشاہدہ کر رہی ہیں کہ زمینی سطح پر ان ہدایات پر کتنی سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ہنگامی دوروں یا ناگہانی حادثات کی صورت میں فوری اجازت کے لیے وفاقی ترجمانوں کی جانب سے وضاحتوں کا انتظار کریں۔ اسلام آباد میں موجود غیر ملکی سفارت خانوں اور پریس ایسوسی ایشنز کے ردعمل سے یہ واضح ہوگا کہ آیا ان قوانین میں آنے والے دنوں میں کوئی نرمی کی جاتی ہے یا نہیں۔
