انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث تین غیر ملکی باشندوں نے ضمانت کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ کیس، جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے، اس وقت اسلام آباد کی عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔
انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت اور قانونی پیش رفت
ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کیے جانے کے بعد عدالتی کارروائی میں تیزی آ گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کی تبدیلی کے لیے فائل چیف جسٹس آفس کو بھجوا دی ہے۔ بینچ کی تشکیل نو کے بعد ہی ضمانت کی درخواست پر حتمی سماعت متوقع ہے۔
دوسری جانب، لاہور کی سیشن عدالت میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کے گھر پر پولیس کے چھاپے سے متعلق مقدمے کی سماعت بھی جاری ہے۔ اس مقدمے میں ملوث اہلکاروں نے بھی اپنی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق ان دونوں اہم کیسز پر قانونی ماہرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
قانون کیا کہتا ہے؟
پاکستان میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے حوالے سے قوانین انتہائی سخت ہیں۔ انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت ایک سنگین جرم ہے جس میں بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ حکومت نے ایسے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر رکھا ہے جو غربت کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اعضاء فروخت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اگر آپ کو اپنے اردگرد کسی ایسی مشکوک سرگرمی کا علم ہو تو اسے فوری طور پر ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) کو رپورٹ کریں۔ عوام کو ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس سے بچانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
- اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نئے بینچ کی تشکیل کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔
- بینچ کی تبدیلی کے بعد ضمانت کی درخواست پر باقاعدہ سماعت کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔
- اس کیس کے تفصیلی ریکارڈ اور استغاثہ کے دلائل سے یہ واضح ہوگا کہ آیا عدالت ملزمان کی ضمانت منظور کرتی ہے یا اسے مسترد کر دیا جائے گا۔
