کھیلوں کی دنیا ایک بڑے صدمے سے دوچار ہے کیونکہ سابق پروفیشنل باکسر پریچرڈ کولن 33 برس کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ وہ گزشتہ 11 برسوں سے ایک باکسنگ مقابلے کے دوران سر کے پچھلے حصے پر لگنے والے غیر قانونی مکے کے نتیجے میں ہونے والی شدید دماغی چوٹ کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
پریچرڈ کولن کے ساتھ کیا ہوا تھا؟
بہت سے شائقین اکثر prichard colon کے کیس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کیونکہ یہ کھیل کی تاریخ کے سب سے دردناک واقعات میں سے ایک ہے۔ 17 اکتوبر 2015 کو ہونے والے اس مقابلے کے دوران ان کے حریف نے ان کے سر کے پچھلے حصے پر کئی غیر قانونی وار کیے، جو باکسنگ کے قوانین کے تحت سختی سے منع ہیں۔ ان وارز کے نتیجے میں کولن شدید دماغی صدمے کا شکار ہوئے اور انہیں ہنگامی حالت میں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
وہ تقریباً 221 دن تک کوما میں رہے، جس کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔ گزشتہ ایک دہائی سے ان کی دیکھ بھال ان کا خاندان کر رہا تھا، جنہوں نے ان کی صحت یابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ان کی موت نے باکسنگ کے حلقوں میں دوبارہ یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ رنگ میں کھلاڑیوں کی حفاظت کو کیسے یقینی بنایا جائے۔
کھیلوں میں سر کی چوٹ اور احتیاطی تدابیر
پریچرڈ کولن کا واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ باکسنگ جیسے کھیلوں میں ذرا سی لاپرواہی کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔
- حادثے کی تاریخ: 17 اکتوبر 2015
- وفات کے وقت عمر: 33 سال
- وجہ: دماغی چوٹ کی پیچیدگیاں
یہ واقعہ کھیلوں کے منتظمین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ 'ریپٹ پنچ' (سر کے پچھلے حصے پر وار) کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔ باکسنگ کے مقابلوں میں ریفری کا کردار صرف پوائنٹس گننا نہیں بلکہ کھلاڑی کی جان بچانا بھی ہوتا ہے۔
آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
اب باکسنگ کی عالمی تنظیموں پر دباؤ ہے کہ وہ میڈیکل پروٹوکولز کو مزید سخت کریں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے باکسنگ کے شوقین افراد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کھیل کے دوران حفاظت سب سے پہلے ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات پر نظر رہے گی کہ آیا باکسنگ کمیشنز اپنے ضوابط میں کوئی بڑی تبدیلی لاتے ہیں یا نہیں۔ پریچرڈ کولن کی کہانی ایک ایسی داستان ہے جسے کھیلوں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
