جیسن آرڈے، جو یونیورسٹی آف کیمبرج کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر بننے کا اعزاز رکھتے تھے، جنوبی لندن کے علاقے بیٹرسی میں ایک رہائش گاہ پر 41 برس کی عمر میں مردہ پائے گئے ہیں۔ جیسن آرڈے کا انتقال جمعہ، 6 فروری 2026 کو ہوا، جو کہ باوقار برطانوی ادارے سے ان کے استعفیٰ دینے کے محض چار دن بعد کا واقعہ ہے۔ ان کی ناگہانی موت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ ایک اعلیٰ سطحی پلیجرازم یعنی علمی سرقہ کے تنازع اور نسلی تعصب کے الزامات کی زد میں تھے۔
برطانوی پولیس اور ریسکیو اداروں نے جنوبی لندن کے اس مقام پر کارروائی کی، تاہم موت کی اصل وجوہات کے حوالے سے حتمی فرانزک رپورٹس ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ باوقار برطانوی ادارے نے اس المناک واقعے کی تصدیق کر دی ہے جس سے دنیا بھر کے تعلیمی حلقے صدمے میں ہیں۔ آرڈے نے 37 سال کی عمر میں کیمبرج میں پروفیسر کا عہدہ سنبھالا تھا، جسے تعلیمی دنیا میں تنوع اور نمائندگی کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔
علمی سرقہ کا تنازع اور استعفیٰ
اس المناک واقعے سے چند دن قبل تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ آرڈے نے علمی سرقہ کے الزامات کے بعد گزشتہ ہفتے کیمبرج یونیورسٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس تنازع نے تعلیمی دیانت داری پر بحث چھیڑ دی تھی، جبکہ ساتھیوں اور حامیوں کی جانب سے ادارے میں مبینہ نسلی تعصب کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔
ایک ایسے محقق کے لیے جنہوں نے بچپن میں بولنے کی معذوری اور آٹزم جیسی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد برطانوی درس گاہوں میں یہ مقام حاصل کیا تھا، کیریئر کا اس طرح زوال پذیر ہونا انتہائی صدمے کا باعث بنا۔ ان الزامات کے بعد پیدا ہونے والے دباؤ نے ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کو شدید متاثر کیا تھا۔
تحقیقات کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال
برطانوی حکام نے بیٹرسی کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مقامی پولیس نے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جو کہ برطانیہ میں اس نوعیت کے ناگہانی فیصلوں اور اموات کے بعد کا معمول کا ضابطہ ہے۔
- متوفی: جیسن آرڈے، عمر 41 سال
- مقام: بیٹرسی، جنوبی لندن
- تاریخِ وفات: جمعہ، 6 فروری 2026
- پس منظر: علمی سرقہ کی تحقیقات کے باعث چار دن قبل کیمبرج سے استعفیٰ
آئندہ کیا متوقع ہے؟
برطانوی پولیس کی جانب سے تحقیقات آگے بڑھانے کے ساتھ ہی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ تعلیمی ادارے اسکالرز کے لیے ذہنی دباؤ اور سپورٹ سسٹمز پر نظر ثانی کریں گے۔ آنے والے دنوں میں لندن میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹس اور تفصیلی بیان سامنے آنے کا امکان ہے۔
