سابق رکن سندھ اسمبلی غلام رسول انٹر نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے کیونکہ وہ ایک اے آئی (AI) کے ذریعے ڈیپ فیک اسکینڈل کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں سابق رکن اسمبلی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایک خاتون نے مصنوعی ذہانت (AI) کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

اے آئی ڈیپ فیک اسکینڈل کی حقیقت

یہ واقعہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی ایک سنگین مثال ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، جب انہوں نے اے آئی کے ذریعے تیار کردہ یہ مواد دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اس کیس میں ملزمہ نے اے آئی ٹولز کا استعمال کر کے انہیں بدنام کرنے اور مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

عدالت میں کارروائی کا مطالبہ

غلام رسول انٹر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ یہ درخواست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں دائر کی گئی ہے۔ عدالت اب اس معاملے کی سماعت کرے گی اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ایف آئی اے (FIA) کو اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جاتا ہے یا نہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس طرح کی ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار ہوتا ہے تو درج ذیل اقدامات فوری کریں:

  • بلیک میل کرنے والوں کی کسی بھی غیر قانونی مطالبے کو پورا نہ کریں اور نہ ہی رقم ادا کریں۔
  • تمام ثبوت جیسے اسکرین شاٹس اور پیغامات کو محفوظ کر لیں۔
  • ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ (FIA Cyber Crime Wing) میں فوری طور پر شکایت درج کروائیں۔
  • سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعلقہ مواد کو رپورٹ کریں تاکہ اسے ہٹایا جا سکے۔

آگے کیا ہوگا؟

عدالت کی جانب سے اس معاملے پر کیا فیصلہ آتا ہے، اس پر سب کی نظریں ہیں۔ یہ کیس پاکستان میں ڈیجیٹل جرائم اور اے آئی کے غلط استعمال کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہو سکتا ہے۔ ہم اس کیس کی عدالتی کارروائی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی پیش رفت ہوگی، آپ کو آگاہ کیا جائے گا۔