فرانس کے جنوب میں پھیلنے والی شدید جنگلات کی آگ نے مقامی حکام کے مطابق لی پورج کے گاؤں میں دوسری جنگ عظیم کے 400 تاریخی گولہ بارود کے چھپے ہوئے ذخیرے کو بے نقاب کر دیا۔ اس خطرناک دریافت نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ماحولیاتی تغیرات اور قدرتی آفات ماضی کی جنگوں کے غیر متوقع خطرات کو کیسے باہر لے آتی ہیں، جس سے امدادی ٹیموں کو آگ بجझाने کے ساتھ ساتھ نئے بحرانوں سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔
لی پورج میں دریافت
گولہ بارود کی یہ غیر متوقع دریافت اس وقت سامنے آئی جب مقامی فائر فائٹرز لی پورج کے جنگلات میں لگی شدید فرانسیسی جنگلات کی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جیسے ہی شعلوں نے گھنی vegetation اور مٹی کو صاف کیا، بیسویں صدی کی عالمی جنگ کے سینکڑوں دھماکہ خیز نوادرات زمینی عملے کو نظر آ گئے۔ مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس ذخیرے میں تقریباً 400 انفرادی شیل اور دھماکہ خیز آلات شامل ہیں، جو فائر فائٹرز اور قریبی رہائشیوں کے لیے فوری خطرہ بن سکتے ہیں۔
آگ کے دوران بارود سے نمٹنے کے لیے خصوصی مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فائر مینجمنٹ ٹیموں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بم ڈسپوزل یونٹس کے ساتھ قریبی رابطہ کرنا پڑا کہ انتہائی گرمی کی وجہ سے کوئی حادثاتی دھماکہ نہ ہو۔ اگرچہ یورپی تاریخ کے ایسے آثار وقتاً فوقتاً براعظم بھر میں ملتے رہتے ہیں، لیکن رہائشی اور جنگلی علاقے میں اتنی بڑی تعداد کا ملنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ماضی کی جنگوں کے نشانات آج بھی زمین کے اندر موجود ہیں۔
آپ کو کیا جاننا چاہیے
بین الاقوامی مشاہدین اور مقامی کمیونٹیز کے لیے ایسے واقعات دیہی علاقوں میں چھپے ہوئے غیر متوقع خطرات کو واضح کرتے ہیں۔ یورپ بھر میں ایسی دریافتوں کے بعد اکثر عقبی انخلاء کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ فوجی انجینئرز محفوظ طریقے سے ان جنگی نوادرات کو ناکارہ بنا سکیں۔ لی پورج کی مقامی پولیس نے حفاظتی اقدامات کے تحت متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
متوقع ہے کہ حکام آنے والے دنوں میں تمام 400 برآمد شدہ اشیاء کو محفوظ طریقے سے ہٹانے کا عمل مکمل کر لیں گے۔ نگرانی کرنے والے ادارے اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا قریبی علاقے بھی ایسے چھپے ہوئے خطرات کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی خبروں پر نظر رکھیں تاکہ اس تاریخی بارود کو ناکارہ بنانے سے متعلق تازہ ترین معلومات مل سکیں۔
