ملک کے مختلف شہروں کے باسیوں کو خبردار ہو جانا چاہیے کیونکہ پاکستان میں 29 جولائی سے مون سون بارشوں کا ایک اور طاقتور سلسلہ داخل ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) نے تصدیق کی ہے کہ یہ نیا موسمیاتی نظام ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جس سے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔ اگر آپ بڑے شہروں میں رہتے ہیں یا پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اپنی تیاری مکمل رکھیں۔
شہروں کے لحاظ سے صورتحال اور ٹائم لائن
یہ بارش کا سسٹم بیک وقت ہر جگہ نہیں برسے گا۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں 29 جولائی بروز منگل سے بارشوں کا آغاز ہوگا۔ محکمہ موسمیات نے لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں نکاسی آب کے مسائل کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب، سندھ اور بالخصوص ساحلی پٹی پر اس سسٹم کے اثرات جولائی کے آخری دو دنوں میں ظاہر ہوں گے۔ کراچی میں 31 جولائی سے بارش کا امکان ہے، جو ماضی کی طرح نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔
اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات
تیز بارشیں ہمیشہ ہمارے شہری نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ پی ایم ڈی نے درج ذیل خطرات سے خبردار کیا ہے:
- پنجاب اور سندھ کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ۔
- مری، گلیات، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ۔
- مقامی ندی نالوں میں طغیانی۔
- تیز ہواؤں سے کمزور عمارتوں اور بجلی کے کھمبوں کو نقصان۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
پانی گھروں میں داخل ہونے کا انتظار کیے بغیر تدارکاتی اقدامات کریں۔ اپنی چھتوں کی نکاسی آب کی نالیوں کو فوراً صاف کریں اور بیسمنٹ میں رکھی قیمتی اشیاء کو محفوظ مقام پر منتقل کریں۔ اگر آپ موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے ہیں تو بارش کے دوران پانی میں پھنسنے سے بچنے کے لیے انڈر پاسز اور نشیبی سڑکوں پر سفر کرنے سے گریز کریں۔ ایمرجنسی نمبر اپنے پاس رکھیں اور بجلی کے طویل تعطل سے نمٹنے کے لیے اپنے یو پی ایس یا جنریٹر تیار رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
اگلے 48 گھنٹوں کے دوران پی ایم ڈی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) کی نئی ایڈوائزریز پر گہری نظر رکھیں۔ بحیرہ عرب سے آنے والی نمی کے باعث بارش کی شدت میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر الرٹ جاری کرے گی، اس لیے سڑکوں کی بندش اور ٹریفک کے متبادل راستوں کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
