بھارت میں قتل کے مقدمے میں 27 برس سے مفرور ملزم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملزم طویل عرصے تک اپنی شناخت بدل کر دوسرے شہر میں ایک ڈاکٹر کے طور پر کام کرتا رہا اور مقامی لوگوں میں 'ڈاکٹر جھٹکا' کے نام سے مشہور تھا۔
مفرور ملزم کی گرفتاری کا پس منظر
یہ مفرور ملزم قتل کے ایک پرانے کیس میں مطلوب تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے برسوں تک روپوش رہا۔ اس نے اپنی شناخت تبدیل کی اور ایک نئے شہر میں منتقل ہو کر طبی پیشے سے وابستہ ہو گیا۔ 'ڈاکٹر جھٹکا' کا نام اسے اس کے اندازِ علاج یا مقامی شہرت کی وجہ سے دیا گیا، جس کی آڑ میں وہ قانون کی گرفت سے بچنے میں کامیاب رہا۔
پولیس اور خفیہ اداروں نے کئی دہائیوں پرانے اس کیس کو دوبارہ کھولا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کے ٹھکانے کا سراغ لگایا۔ طویل عرصے تک مفرور رہنے کے باوجود، تفتیشی اداروں نے ریکارڈز کو آپس میں جوڑ کر بالاخر اس شخص تک رسائی حاصل کر لی۔
شناخت کیسے ظاہر ہوئی؟
اگرچہ ملزم کو یقین تھا کہ اس کی نئی شناخت محفوظ ہے، لیکن جدید ڈیجیٹل ریکارڈز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک نے اس کا پردہ چاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق، برسوں پہلے کے شواہد اور موجودہ شواہد کا موازنہ کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ وہی شخص ہے جو قتل کے مقدمے میں مطلوب تھا۔
- ملزم نے 27 برس تک اپنی اصل شناخت چھپائے رکھی۔
- اس دوران وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے معاشرے میں گھل مل چکا تھا۔
- پولیس نے طویل تفتیش کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔
قانونی کارروائی کا اگلا مرحلہ
اب جب کہ مفرور ملزم قانون کی تحویل میں ہے، مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا عمل شروع ہوگا۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اتنے برس گزرنے کے بعد کیس کے شواہد کو عدالت میں کیسے پیش کیا جائے گا۔ ملزم پر قتل کے علاوہ شناخت چھپانے اور دھوکا دہی کے مزید الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یہ گرفتاری ان لوگوں کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے جو برسوں سے انصاف کے منتظر تھے۔ کیس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون کی گرفت سے فرار حاصل کرنا مستقل ممکن نہیں اور پرانے کیسز کو حل کرنے کے لیے جدید تفتیشی طریقے انتہائی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
