گمبٹ ہسپتال میں لیور ٹرانسپلانٹ کی کامیاب سرجری نے سندھ میں سرکاری شعبے کی طبی سہولیات کی افادیت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔ گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے ایک چچا اور بھتیجے، جنہوں نے حال ہی میں گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (GIMS) میں اپنے جگر کی پیوند کاری کروائی تھی، صحت یابی کے بعد ہفتے کے روز سکھر پریس کلب پہنچے اور ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

گمبٹ ہسپتال میں طبی کامیابی

یہ آپریشن اس بات کی علامت ہے کہ اب پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں بھی پیچیدہ ترین سرجریز کامیابی سے انجام دی جا رہی ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں لیور ٹرانسپلانٹ کا خرچہ لاکھوں روپے تک پہنچ جاتا ہے، جو ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ GIMS کی جانب سے یہ سہولت فراہم کرنے سے ان مریضوں کو نئی زندگی ملی ہے جو مہنگے علاج کے متحمل نہیں تھے۔

ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی، جو اس ادارے کی سربراہی کر رہے ہیں، نے اپنی ٹیم کے ہمراہ نہ صرف آپریشن کو کامیاب بنایا بلکہ مریضوں کی مکمل صحت یابی کو بھی یقینی بنایا۔ سکھر پریس کلب میں مریضوں کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ گمبٹ ہسپتال میں مریضوں کو بہترین طبی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے۔

مریضوں کے لیے اہم معلومات

  • سہولت تک رسائی: GIMS اب سندھ اور بلوچستان بھر کے مریضوں کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
  • مالی بوجھ میں کمی: سرکاری ہسپتال ہونے کی وجہ سے یہاں کے اخراجات نجی ہسپتالوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔
  • طبی مہارت: گھوٹکی کے مریضوں کی کامیاب بازیابی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہاں کا طبی عملہ جدید ترین سرجریز کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مریضوں کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز گمبٹ ہسپتال سے علاج کروانے کا ارادہ رکھتا ہے، تو ہسپتال کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے انتظار کی فہرست اور اہلیت کے معیار کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ سرکاری ہسپتالوں میں رش زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اپنے میڈیکل ریکارڈز کے ساتھ پہلے سے رابطہ کرنا بہتر ہے۔

مستقبل کی توقعات

اس کامیاب آپریشن کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی سطح پر GIMS کے لیے مزید فنڈز مختص کیے جائیں گے تاکہ مزید مریضوں کو یہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ یہ ادارہ آنے والے وقت میں پاکستان کے طبی شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔