بلوچستان میں گیس کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ بدھ کی رات دیر گئے ضلع کچھی کے علاقے بولان میں مرکزی گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا جانا ہے۔
بلوچستان گیس سپلائی کی صورتحال
اس دھماکے کے نتیجے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں اور قصبوں میں گیس کی ترسیل مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ پائپ لائن کو پہنچنے والا نقصان کافی وسیع ہے، جس کی وجہ سے گھریلو صارفین اور کاروباری مراکز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ مرمت کے کام کا آغاز کیا جا سکے۔
بولان میں کیا ہوا؟
بدھ کی شب نامعلوم افراد نے مرکزی پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا، جس سے گیس کی فراہمی فوری طور پر معطل ہو گئی۔ بولان کا علاقہ ماضی میں بھی اس طرح کے حملوں کا مرکز رہا ہے، جو صوبے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی تکنیکی ٹیمیں بحالی کا کام شروع کر سکیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر ہیں تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
- گیس کے تمام آلات (چولہے، ہیٹر) بند رکھیں تاکہ گیس بحال ہونے پر کسی حادثے کا خطرہ نہ ہو۔
- SSGC کے سرکاری اعلامیوں پر نظر رکھیں تاکہ بحالی کے وقت کا اندازہ ہو سکے۔
- بند کمروں میں کوئلے یا لکڑی کے ہیٹر کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ یہ کاربن مونو آکسائیڈ کے زہریلے اخراج کا باعث بن سکتے ہیں۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
فی الحال تمام تر توجہ مرمت کرنے والے عملے کی سیکیورٹی اور پائپ لائن کو ٹھیک کرنے پر مرکوز ہے۔ آپ کو سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ توقع ہے کہ بنیادی لیکج کو بند کرنے کے بعد گیس کی بحالی کا عمل مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی کی غفلت پر تحقیقات کا بھی امکان ہے۔
