لاہور کے ہسپتالوں میں گیسٹرو کے کیسز بڑھنے سے عام شہریوں کی جیب پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ قے، دست اور شدید پانی کی کمی کے باعث ہسپتالوں کا رخ کرنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافے نے طبی سہولیات پر دباؤ ڈال دیا ہے۔ اگر آپ یا آپ کے گھر کا کوئی فرد اس بیماری کا شکار ہوتا ہے تو کنسلٹیشن فیس، ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کے اخراجات آپ کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔

گیسٹرو کے بڑھتے کیسز اور مالی بوجھ

جب خاندان کا کوئی فرد بیمار پڑتا ہے تو فوری طور پر طبی اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لاہور کے نجی کلینک میں ڈاکٹر کی فیس 1,500 سے 3,000 روپے تک ہے۔ اگر حالت بگڑ جائے اور ہسپتال میں داخلہ درکار ہو تو ادویات، ڈرپس اور ٹیسٹ کا خرچہ 15,000 سے 40,000 روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیہاڑی دار طبقے کے لیے کام سے چھٹی کا مطلب آمدنی کا نقصان بھی ہے۔

بیماری کی وجوہات

طبی ماہرین کے مطابق گیسٹرو کی بنیادی وجہ آلودہ پانی اور غیر معیاری سڑک کنارے فروخت ہونے والا کھانا ہے۔ پانی کی فراہمی کے پائپوں میں لیکیج اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث جراثیم تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ بہت سے شہری اب صاف پانی کے لیے بوتل بند پانی خریدنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

  • پینے کے پانی کو کم از کم پانچ منٹ تک ابال کر استعمال کریں۔
  • سڑک کنارے کٹے ہوئے پھلوں اور مشروبات سے پرہیز کریں۔
  • کھانے سے پہلے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
  • اگر پیٹ کی خرابی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) سے بچا جا سکے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

محکمہ صحت پنجاب کی ہدایات پر نظر رکھیں۔ اگر آپ کے علاقے میں پانی کا رنگ یا ذائقہ تبدیل ہو تو فوری طور پر واسا (WASA) کے کمپلینٹ سیل میں شکایت درج کروائیں۔ مزید معلومات کے لیے محکمہ صحت پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں۔ احتیاط ہی آپ کو بڑے طبی اخراجات سے بچا سکتی ہے۔