لاہور میں گیسٹرو کے کیسز میں اچانک اضافے نے نہ صرف سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ ڈال دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی جیبوں پر بھی بوجھ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
لاہور میں گیسٹرو کے کیسز کی صورتحال
شہر کے بڑے ہسپتالوں میں پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے صحت کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال کی کڑی نگرانی کریں اور ہیضہ (کولرا) کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کریں۔ جب صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہوتا ہے، تو نجی کلینک اور لیبارٹریوں کے اخراجات عام آدمی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں۔
آپ کے بجٹ پر مالی اثرات
اگر آپ یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد بیمار پڑتا ہے، تو مالی بوجھ صرف ڈاکٹر کی فیس تک محدود نہیں رہتا:
- لیبارٹری ٹیسٹ: ہیضہ یا دیگر انفیکشن کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کروانے پر 1,500 سے 4,000 روپے تک کا خرچ آ سکتا ہے۔
- ادویات: اینٹی بائیوٹکس اور او آر ایس (ORS) کے کورس پر 800 سے 2,500 روپے تک خرچ ہو سکتے ہیں۔
- اضافی اخراجات: بیماری کے دوران کام سے چھٹی کا نقصان اور گھر میں پانی کو صاف کرنے کے لیے درکار اخراجات آپ کے ماہانہ بجٹ میں مزید 3,000 روپے تک کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
احتیاطی تدابیر اختیار کرنا علاج سے کہیں زیادہ سستا ہے۔ پانی کو کم از کم 10 منٹ تک ابال کر استعمال کریں۔ باہر کے کھانوں سے پرہیز کریں، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں صفائی کے معیار مشکوک ہوں۔ اگر آپ کو الٹی یا دست کی شکایت ہو تو فوری طور پر قریبی سرکاری مرکزِ صحت سے رجوع کریں تاکہ نجی ہسپتالوں کے بھاری اخراجات سے بچا جا سکے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
محکمہ صحت کی جانب سے پانی کے معیار کے بارے میں جاری ہونے والے اعلانات پر نظر رکھیں۔ اگر ہیضہ کے بارے میں کوئی باضابطہ الرٹ جاری کیا جاتا ہے، تو اس پر فوری عمل کریں۔ اپنے گھر کے پانی کے پائپوں اور سپلائی کی نگرانی کریں، کیونکہ آلودہ پانی ہی اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ یاد رکھیں، بروقت احتیاط ہی آپ کے پیسے اور صحت دونوں کو بچا سکتی ہے۔
