ایک متنازع بین الاقوامی دورے نے سرکاری عہدیداروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، کیونکہ گاؤٹینگ کی اسپیکر کے 6 ملین رینڈ کے دورہ وینزویلا نے سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ گاؤٹینگ لیجسلیچر کی اسپیکر موراکانے موسوپیو نے وینزویلا کا چار روزہ سفارتی دورہ کیا جس پر ٹیکس دہندگان کے چھ ملین رینڈ خرچ ہوئے۔ عام شہریوں کے لیے، جن کے مقامی ادارے سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں، اتنی بڑی رقم غیر ملکی دوروں پر اڑانا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
عوامی نمائندوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری خزانے کی حفاظت کریں گے، لیکن اس کے باوجود سیاسی رہنما بین الاقوامی تعلقات کی آڑ میں مہنگے غیر ملکی دوروں کی منظوری دے دیتے ہیں۔ ڈیموکریٹک الائنس (ডিএ) نے اس اخراجات پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا ہے کہ اس مختصر دورے سے گاؤٹینگ کے عوام کو کیا فائدہ پہنچا۔ جب وسائل محدود ہوں، تو چند دنوں کے غیر ملکی دوروں پر لاکھوں روپے خرچ کرنا عوام میں شدید غم و غصے کا باعث بنتا ہے۔
6 ملین رینڈ کے اخراجات کی تفصیلات
اس متنازع دورے میں وینزویلا میں صرف چار دن کا قیام شامل تھا۔ اگرچہ ہوائی سفر، مہنگے ہوٹلوں اور سیکیورٹی کے اخراجات کی حتمی تفصیلات ابھی زیر بحث ہیں، لیکن کل 6 ملین رینڈ کے بل نے مالیاتی نگہبانوں کو حیران کر دیا ہے۔ پارلیمانی نظام میں اکثر ایسے دوروں کا جواز تجارت یا ثقافتی تبادلے کے نام پر دیا جاتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ چار دن کے دورے سے اتنی بڑی رقم کا کوئی معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہی سفارتی مقاصد آن لائن اجلاسوں کے ذریعے کم خرچ میں کیوں حاصل نہیں کیے گئے۔ حکومتی شخصیات کی جانب سے لگژری سفر پر اخراجات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ اشرافیہ اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عام شہریوں کے درمیان کتنا بڑا خلیج موجود ہے۔ جیسے جیسے معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے، حکومتی اداروں کے غیر ضروری اخراجات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
سیاسی ردعمل اور احتساب
مخالف جماعتیں اس معاملے پر باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی فنڈز کا درست استعمال ہوا یا نہیں۔ جب رہنما شاہانہ دورے کرتے ہیں، تو اس سے جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ احتساب کے نظام کو فعال ہونا چاہیے تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ آیا مالیاتی ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے یا نہیں۔
ان سرکاری دوروں سے فائدہ اٹھانے والوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تفصیلی رپورٹس پیش کریں کہ اس سے مقامی ترقی پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ شفاف دستاویزات کے بغیر ایسے دوروں کو محض فضول خرچی ہی قرار دیا جائے گا۔ عوامی دباؤ ہی وہ مؤثر ہتھیار ہے جو مقننہ کو اپنے اخراجات کم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
آپ کو صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں پر نظر رکھنی چاہیے جہاں اپوزیشن ارکان اس دورے کے اخراجات پر سوالات اٹھائیں گے۔ کسی بھی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ یا اخلاقی کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کریں جو مالیاتی ضابطوں کی خلاف ورزی کی جانچ کر رہی ہو۔ اگر عوام کا غصہ بڑھتا رہا تو گاؤٹینگ لیجسلیچر کو اخراجات کی تفصیلی رپورٹ جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
