غزہ سول دفاع کے رضاکاروں نے اسرائیلی حملے کے تین سال بعد تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کے ملبے سے 112 افراد کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کر لی ہیں۔ یہ دلخراش کارروائی غزہ شہر کے صبرہ کے علاقے میں انجام دی گئی جہاں ابو شریعہ اور الحسینہ خاندانوں کے گھر شدید بمباری کا نشانہ بنے تھے۔
منگل کو اجتماعی نماز جنازہ کی ادائیگی
ملبے سے لاشیں اور انسانی باقیات ملنے کے بعد منگل کے روز ان تمام افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں علاقہ مکینوں اور لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ گزشتہ تین سالوں سے یہ تمام افراد لاپتہ شمار ہو رہے تھے کیونکہ سیکیورٹی خدشات اور بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث اس علاقے میں امدادی کارروائیاں ناممکن تھیں۔
غزہ کے شہری دفاع کے اداروں کو ایندھن کی شدید قلت اور آلات کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے تباہ شدہ مقامات پر امدادی کام انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود ریسکیو ٹیمیں اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے لاشیں نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ لواحقین کو اپنے پیاروں کی آخری رسومات کا موقع مل سکے۔
امدادی کارروائیوں کو درپیش چیلنجز
غزہ بھر میں ہزاروں افراد اب بھی مٹی اور کنکریٹ کے تودوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں جن کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ غزہ میں ہیوی مشینری اور ریسکیو کا سامان داخل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے۔
- کارروائی کا مقام: صبرہ علاقہ، غزہ سٹی
- نشانہ بننے والے مقامات: ابو شریعہ اور الحسینہ خاندان کے گھر
- کل برآمد شدہ لاشیں: 112 افراد
- اجتماعی جنازہ: منگل کا دن
آگے کیا متوقع ہے؟
بین الاقوامی امدادی ادارے اس واقعے کے بعد غزہ میں شہری دفاع کے لیے مزید وسائل کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قاری کی حیثیت سے آپ کو اس خطے کی تازہ ترین صورتحال اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ زمینی حقائق سے آگاہ رہ سکیں۔
