غزہ کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے کیونکہ وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں آکسیجن کی فراہمی کا نظام کسی بھی وقت مکمل طور پر معطل ہو سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق، علاقے کے مجموعی طور پر 34 آکسیجن اسٹیشنز میں سے 22 مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے اسپتالوں میں زیر علاج ہزاروں سنگین مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بقایاجات اسٹیشنز کو تکنیکی مشکلات کا سامنا

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ جو 12 آکسیجن اسٹیشنز اب تک کسی نہ کسی طرح فعال ہیں، وہ بھی شدید تکنیکی اور مکینیکل مشکلات کی زد میں ہیں۔ ایندھن کی قلت، اسپیئر پارٹس کی عدم دستیابی اور بجلی کے مسلسل تعطل کی وجہ سے یہ باقی ماندہ یونٹس بھی کسی بھی وقت کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر امدادی سامان اور مرمتی آلات کی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو آکسیجن کی پیداوار مکمل طور پر رک جائے گی۔

اسپتالوں اور مریضوں پر اثرات

آکسیجن کی بندش سے انڈینسیو کیئر یونٹس، ایمرجنسی وارڈز اور نو مولود بچوں کے وارڈز میں موجود مریضوں کی جانیں براہِ راست خطرے میں ہیں۔ ڈاکٹرز انتہائی محدود وسائل کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اسپتالوں کو روزانہ کی بنیاد پر انتہائی کٹھن فیصلوں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے باوجود طبی سہولیات کو درپیش یہ بحران انسانی المیے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

آئندہ کے لیے کیا دیکھنا ہوگا

عالمی سطح پر اس بحران پر نظر رکھنے والے حلقے فوری جنگ بندی اور میڈیکل سپلائیز کی غزہ تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر رفاہی تنظیموں کی جانب سے ہنگامی اقدامات کا انتظار ہے تاکہ جنریٹروں اور آکسیجن پلانٹس کے لیے فیول کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔ آپ کو بین الاقوامی خبروں پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔