امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ امن بورڈ نے پیر کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو یقین دہانی کرائی ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا صرف حماس کے مکمل ہتھیار ڈالنے کے بعد ہی عمل میں لایا جائے گا۔ یہ یقین دہانی تل ابیب کی جانب سے غزہ امن پلان کے تحت انخلا کے شیڈول پر شدید اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی قیادت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی فوجی واپسی سے قبل خطے میں حماس کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کیا جانا ضروری ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، واشنگٹن کی طرف سے اس نئی یقین دہانی کا مقصد اتحادی حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنا اور جاری سفارتی کوششوں کو پٹڑی سے اترنے سے بچانا ہے۔
قطر کی جانب سے نکتہ چینی
دوسری جانب، اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خطے میں اہم کردار ادا کرنے والے ثالث ملک قطر نے منگل کے روز معاہدے کے نفاذ میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد کر دی ہے۔ دوحہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور علاقے سے فوج نہ ہٹانے کے فیصلوں کی وجہ سے امدادی اور امن اقدامات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
قطری حکام کے مطابق، اگرچہ حماس کی جانب سے مبینہ طور پر ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی جا چکی ہے، تاہم تل ابیب کی طرف سے مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرنے کی وجہ سے زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کا مرحلہ انتہائی پیچیدہ اور نازک دور سے گزر رہا ہے۔
پاکستان اور خطے پر اثرات
پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کی اس تازہ ترین صورتحال پر اسلام آباد کی نگاہیں پوری طرح جمی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں عام شہری مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ میں ہیں، جبکہ دنیا بھر میں تیل کی رسد اور بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ براہ راست ان عالمی سیاسی فیصلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
جب مشرق وسطیٰ میں تناؤ بڑھتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور نجی شعبے پر بھی پڑتے ہیں، جس کا بالواسطہ بوجھ عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر غزہ کا تنازع طویل ہوا تو اس سے پاکستان کی درآمدی لاگت اور توانائی کے شعبے میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
اب تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا حماس اپنے ہتھیار ڈالنے کے عمل کو عملی جامہ پہناتی ہے یا نہیں، اور کیا اسرائیل اس کے بعد واقعی انخلا شروع کرتا ہے۔ آپ کو اس صورتحال میں بین الاقوامی خبروں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر اشیائے خورونوش اور ایندھن کے نرخوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ خطے کی جنگی صورتحال کسی بھی وقت سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
