فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو اس وقت شدید سفارتی اور انتظامی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے جب نیوزی لینڈ فٹبال اور فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ نے باضابطہ طور پر ان کی قیادت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ دونوں ممالک کے ان فیصلوں نے عالمی فٹبال کی بااختیار ترین نشست پر براجمان انفینٹینو کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، جس سے رکن ممالک میں شفافیت اور انتظامی فیصلوں کے حوالے سے پایا جانے والا عدم اطمینان کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

نیوزی لینڈ فٹبال نے اندرونی مشاورت کے بعد حمایت واپس لینے کی تصدیق کی، جبکہ آئرلینڈ کے فٹبال بورڈ نے زیورخ میں فیفا ہیڈکوارٹرز کو باضابطہ خط بھیج کر واضح کیا کہ وہ اب انفینٹینو کے فیصلوں کی توثیق نہیں کرے گا۔ یورپ اور اوشیانا سمیت مختلف براعظموں کے فٹبال فیڈریشنز کی جانب سے مسلسل تنقید کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اہم ترین حقائق ایک نظر میں

- نیوزی لینڈ فٹبال: فیفا قیادت کے موجودہ طریقہ کار پر تحفظات کے بعد حمایت باضابطہ ختم۔
- فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ: خط کے ذریعے فیفا کو دستبرداری کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
- عالمی ردعمل: یورپ اور دیگر خطوں کی متعدد فیڈریشنز آئندہ اجلاسوں میں اپنے مؤقف پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
- سرکاری معلومات: فیفا کے تمام قواعد اور اجلاسوں کی تفصیلات fifa.com پر دستیاب ہیں۔

حمایت میں کمی کی بنیادی وجوہات

جیانی انفینٹینو کے خلاف مختلف ممالک کے فٹبال بورڈز میں کافی عرصے سے بے چینی پائی جا رہی تھی۔ بڑے ٹورنامنٹس کے شیڈول میں مسلسل اضافے، نئے بین الاقوامی کلب مقابلوں کے یکطرفہ فیصلوں اور کھلاڑیوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث یورپی فیڈریشنز کھل کر ناراضگی کا اظہار کر رہی تھیں۔ آئرلینڈ کی جانب سے تحریری خط ارسال کرنے کے بعد اب درمیانے درجے کی فٹبال ایسوسی ایشنز کے لیے بھی آواز اٹھانا آسان ہو گیا ہے۔

دوسری جانب اوشیانا خطے میں نیوزی لینڈ کا یہ اقدام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ روایتی طور پر یہ خطہ انتخابات میں یکطرفہ ووٹ دیتا رہا ہے، لیکن نیوزی لینڈ کی علیحدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے روایتی ووٹ بینک میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

پاکستانی فٹبال پر اس کے اثرات

بظاہر یہ ڈبلن اور ویلنگٹن کا اندرونی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، لیکن فیفا کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی پاکستان فٹبال کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) خود طویل عرصے سے نارملائزیشن کمیٹیوں، اندرونی تنازعات اور معطلیوں کے مسائل سے نبردآزما رہی ہے۔ فیفا کی سطح پر شفافیت اور احتساب کا مطالبہ جتنا مضبوط ہوگا، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے فٹبال کو اتنا ہی فائدہ پہنچے گا۔

فیفا فارورڈ پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز، کوچنگ پروگرامز اور تکنیکی معاونت کے نظام کا انحصار عالمی گورننس پر ہوتا ہے۔ جب عالمی قیادت پر دباؤ بڑھتا ہے تو چھوٹے ممالک کو دیے جانے والے فنڈز کے آڈٹ اور تقسیم کا نظام زیادہ منصفانہ ہو جاتا ہے۔

مقامی منتظمین اور شائقین کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان کے کھیلوں کے صحافیوں، کلب مالکان اور فٹبال منتظمین کو عالمی منظرنامے پر نظر رکھنی چاہیے۔

  • پی ایف ایف کی پوزیشن پر نظر رکھیں: شائقین یہ دیکھیں کہ پاکستان نارملائزیشن کمیٹی یا مستقبل کی منتخب باڈی فیفا کے اندر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔
  • سرکاری ذرائع چیک کریں: تازہ ترین فیصلوں کے لیے فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن کی ویب سائٹ the-afc.com پر جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز پڑھیں۔
  • مقامی اصلاحات کا مطالبہ: بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں مقامی کلبز کی شفاف اسکروٹنی اور قومی سطح کی باقاعدہ لیگ کے قیام کا مطالبہ تیز کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

اب تمام تر توجہ آئندہ فیفا کانگریس پر مرکوز ہے جہاں مختلف براعظموں کے نمائندے اکٹھے ہوں گے۔ اگر یورپی یونین کی دیگر بڑی فیڈریشنز نے بھی آئرلینڈ اور نیوزی لینڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے واضح بغاوت کی، تو فیفا صدر کو میچز کے شیڈول اور مالی تقسیم پر اپنے سخت فیصلوں سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ عالمی فٹبال کا آئندہ چند ماہ کا سیاسی ماحول انتہائی فیصلہ کن ثابت ہونے والا ہے۔