گیمز (گیمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے ماہر سرجنز نے روڈ حادثے کے شکار ایک مریض کے چہرے کی ہڈیوں کا پیچیدہ فیکچر کامیابی سے جوڑ دیا ہے۔ منگل کے روز ہونے والی اس سرجری میں شعبہ اورل اینڈ میکسیلوفیشل سرجری کے ڈاکٹروں نے جدید طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے مریض کے چہرے کی ساخت اور توازن کو بحال کیا۔ اس نوعیت کے حادثات عام طور پر جبڑے اور کھوپڑی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، جن کے لیے انتہائی ماہر سرجنز اور جدید آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔
سندھ کے دیہی علاقوں میں واقع اس ادارے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ بڑے شہروں کے مساوی پیچیدہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل ایسے مریضوں کو کراچی یا لاہور منتقل کرنا پڑتا تھا، جہاں پرائیویٹ اسپتالوں کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔ گیمبٹ میں اس طرح کے علاج کی فراہمی سے غریب اور نادار طبقات کو بڑی ریلیف مل رہی ہے، جو مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
گمبٹ انسٹی ٹیوٹ میں جدید علاج کی سہولیات
چہرے کی ہڈیوں کی تعمیر نو یا فیشل ریکنسٹرکشن ایک انتہائی نفاست والا کام ہے جس میں چھوٹی ٹائٹینیم پلیٹس اور اسکرو کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سرجیکل ٹیم نے ہڈیوں کو ان کی اصل جگہ پر لا کر درست زاویے پر فکس کیا تاکہ مریض کو مستقبل میں بولنے یا کھانے میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں چہرے کا بگاڑ مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے اور بصارت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
حادثات کی صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کے کسی عزیز کو سڑک پر شدید حادثہ پیش آئے اور چہرے یا سر پر چوٹ لگے، تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
- سب سے پہلے مریض کی سانس کی نالی کو صاف رکھیں کیونکہ جبڑے کے فیکچر سے سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
- گردن یا سر کی شدید چوٹ کی صورت میں مریض کو بغیر طبی امداد کے خود حرکت دینے سے گریز کریں۔
- مریض کو فوری طور پر قریبی بڑے اسپتال یا ٹراما سینٹر منتقل کریں جہاں ماہر ڈاکٹر موجود ہوں۔
آگے کیا توقع کی جائے
طبی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سندھ کے دیگر ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں بھی ایسی سرجیکل یونٹس قائم کی جائیں تاکہ گیمبٹ پر مریضوں کا بوجھ کم ہو سکے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں مزید بہتری کے لیے فنڈز کی فراہمی اور ڈاکٹروں کی تربیت کا عمل جاری ہے۔
