فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کو اس وقت ایک بڑی انتظامی مشکل کا سامنا ہے جب دنیا کی تین بڑی فٹ بال کنفیڈریشنز نے ان کی قیادت کو براہِ راست چیلنج کر دیا ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والے ایک مشترکہ خط میں، یورپ (UEFA) اور شمالی و وسطی امریکہ (CONCACAF) سمیت دیگر ریجنل باڈیز کے نمائندوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ فٹ بال کا کھیل کسی ایک فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔
فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کو تنقید کا سامنا کیوں ہے؟
یہ کشیدگی زیورخ میں واقع فیفا ہیڈکوارٹر میں فیصلہ سازی کے مرکزی عمل پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان میں جہاں فٹ بال کا شوق تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہاں اس طرح کے عالمی تنازعات پر نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس کا اثر فٹ بال کی عالمی پالیسیوں پر پڑتا ہے۔ جب یورپ اور امریکہ کی بڑی فٹ بال باڈیز متحد ہو کر آواز اٹھاتی ہیں، تو یہ فیفا کی حکمرانی میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
- یہ مشترکہ خط پیر کے روز متعدد کنفیڈریشنز کے سربراہان کی جانب سے لکھا گیا۔
- اس کا بنیادی مطالبہ شفافیت اور اختیارات کی مساوی تقسیم ہے۔
- حکام کا کہنا ہے کہ فیفا تمام ممالک اور کلبوں کا ایک اجتماعی ادارہ ہے، نہ کہ کسی ایک شخص کا ذاتی پلیٹ فارم۔
عالمی فٹ بال پر اثرات
یہ تنقید انفنٹینو کے لیے ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ایک فرد کی یکطرفہ کنٹرول کی پالیسی کے خلاف یہ اقدام اس بات کا مطالبہ کر رہا ہے کہ مستقبل کے ٹورنامنٹس اور فنڈز کی تقسیم کے فیصلوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ عام شائقین کے لیے، یہ ایک ایسی پاور پلے ہے جو فٹ بال کے عالمی مقابلوں کے انتظام میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔
شائقین اب کیا دیکھیں؟
آنے والے دنوں میں فیفا کی کانگریس میٹنگز پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دباؤ تنظیم کے قوانین میں تبدیلی لانے پر مجبور کرے گا یا صدر اپنی پالیسیوں پر قائم رہیں گے۔ اگر آپ فٹ بال کے مداح ہیں تو ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (AFC) کے بیانات پر توجہ دیں، کیونکہ ان کا موقف اس تحریک میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مزید سرکاری اپڈیٹس کے لیے، آپ فیفا کی آفیشل ویب سائٹ کو دیکھ سکتے ہیں جہاں اس مطالبے کے جواب میں ممکنہ ردعمل جاری کیا جا سکتا ہے۔ تاحال فیفا کے صدر کے دفتر سے کوئی باضابطہ معذرت یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
