عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئی تشویش بن کر سامنے آیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ارد گرد بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خام تیل کے نرخوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے براہ راست اثرات پاکستان جیسے درآمدی انحصار والے ممالک پر پڑتے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور پاکستان

پیر کی صبح ایشیائی تجارت کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں معمولی لیکن اہم اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال تیل کی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، عالمی مارکیٹ میں یہ تیزی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور ملکی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ایوی ایشن انڈسٹری اور فضائی کرایوں میں اضافہ

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو ایک شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ کورونا وائرس کے بعد سنبھلنے والی یہ انڈسٹری ایک بار پھر بڑے مالی نقصان کا سامنا کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں:

  • عالمی سطح پر فضائی کرایوں میں 35 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔
  • ایئرلائنز اپنے آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔
  • پاکستان سے بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کو بھی مہنگے ٹکٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ٹکٹوں کی بکنگ وقت سے پہلے کروائیں تاکہ متوقع اضافے سے بچا جا سکے۔

عام آدمی کے لیے کیا اہم ہے؟

پاکستان میں تیل کی قیمتوں کا تعین اوگرا (OGRA) کی سفارشات پر ہر پندرہ دن بعد کیا جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے، اگلی قیمتوں کے تعین میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ حکومتی اعلانات پر نظر رکھیں اور اپنے بجٹ کو موجودہ معاشی صورتحال کے مطابق ترتیب دیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، لہذا آنے والے دن معاشی طور پر محتاط رہنے کے ہیں۔