بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کا دعویٰ اب ایک عالمی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ حال ہی میں عالمی نشریاتی ادارے 'ٹی آر ٹی' نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات اور ریاستی اداروں کی مبینہ خاموشی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کی وجوہات
رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کا دعویٰ صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ ٹی آر ٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب سے موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے، مذہبی اقلیتوں کے خلاف جارحانہ بیانیے میں تیزی آئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ریاستی ادارے، جن کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، وہ ان واقعات پر کارروائی کرنے کے بجائے اکثر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔
اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے علمبرداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر عدم مداخلت کے باعث انتہا پسند عناصر کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے اکثر تعصب کا شکار نظر آتے ہیں، جس سے مسلمانوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔
خطے پر اثرات
پاکستان کے قارئین کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پڑوسی ملک میں ہونے والی یہ پیش رفت پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے ان واقعات پر مسلسل رپورٹنگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ دنیا بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اس رپورٹ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت پر دباؤ بڑھائیں گی۔ قارئین کو درج ذیل نکات پر نظر رکھنی چاہیے:
- عالمی فورمز پر بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے ہونے والی بحث۔
- انسانی حقوق کے عالمی واچ ڈوگز کی جانب سے مزید دستاویزی شواہد کا اجراء۔
- بھارتی حکومت کا اس رپورٹ اور عالمی دباؤ پر ردعمل۔
مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا عالمی برادری بھارت کو اپنے آئینی وعدوں کی پاسداری پر مجبور کر پائے گی یا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ اس حساس معاملے پر مستند عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
