بین الاقوامی شپنگ تنظیموں نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے نفاذ کے خلاف اقوام متحدہ سے باضابطہ طور پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انتہائی اہم بحری گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی اور کارگو کا ایک بہت بڑا حصہ سنبھالتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے مختلف سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ پاکستان کی معیشت، جو درآمدی پیٹرولیم مصنوعات اور مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، کے لیے اس مقام پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اضافی محصول سے لاگت میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر عالمی شپنگ کے تحفظات
اہم شپنگ ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں پر ٹول یا من مانی مالیاتی بھاری بھرکم چارجز عائد کرنا بین الاقوامی میری ٹائم قوانین اور جہاز رانی کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس سے بین الاقوامی منڈیوں کی طرف جانے والے تیل کے ٹینکرز کے لیے مرکزی رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر علاقائی کھلاڑی یا حکام یہاں سے گزرنے کی فیسیں عائد کرتے ہیں، تو عالمی سطح پر کنٹینر فریٹ کے نرخ آسمان کو چھونے لگیں گے۔ پاکستانی درآمد کنندگان جو خلیج سے خام تیل، مائع قدرتی گیس (LNG) اور صنعتی خام مال منگواتے ہیں، انہیں شپिंग کے بڑھتے ہوئے بلوں کا فوری سامنا کرنا پڑے گا۔
- عالمی توانائی کی سپلائی کو سنبھالنے والا اہم تجارتی راستہ
- شپنگ فیڈریشنز کا اقوام متحدہ سے فوری سفارتی رابطے کا مطالبہ
- ممکنہ ٹول ٹیکسز سے عالمی سپلائی چین کے متاثر ہونے کا خدشہ
پاکستان کی توانائی کی درآمدات پر اثرات
پاکستان کے لیے توانائی کی سیکیورٹی ہمیشہ ایک نازک توازن رہی ہے، جہاں ہمارا زیادہ تر فرنس آئل، ڈیزل اور ایل این جی مشرق وسطیٰ کے بحری راہداریوں کے ذریعے آتی ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو لائنرز کے لیے آپریٹنگ لاگت میں اضافے کا براہ راست اثر فریٹ چارجز پر پڑتا ہے۔ مقامی ریفائنریز اور سرکاری توانائی کمپنیاں درآمدی لاگت کا یہ بوجھ آگے منتقل کرتی ہیں۔ عام شہریوں کو مقامی فیول اسٹیشنوں پر بجلی کے زیادہ نرخوں اور پیٹرول کی قیمتوں کی صورت میں اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سفارتی اقدامات اور آگے کیا ہوگا
جنیوا، نیویارک اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں میں سفارتی چینلز اس وقت فعال ہیں تاکہ تجارتی شپنگ کو براہ راست نقصان پہنچنے سے پہلے کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ آپ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آئندہ مذاکرات اور بین الاقوامی میری ٹائم اداروں کے بیانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو گئے، تو آنے والے ہفتوں میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ذریعے کی جانے والی گھریلو فیول قیمتوں کے جائزوں پر اس کے فوری اثرات مرتب ہوں گے۔ درآمدی بلوں میں اضافے کی ابتدائی علامات کے لیے عالمی فریٹ انڈیکس پر نظر رکھیں۔
