مغربی ممالک میں بزرگ نسل کے پاس موجود کھربوں روپے کے اثاثوں کی نئی نسل کو منتقلی پر جاری عالمی بحث نے نجی مالیات کے نئے زاویے سامنے لا دیے ہیں۔ اگلے دو دہائیوں میں امریکہ اور دیگرممالک میں ہونے والی اس بڑی تبدیلی کے تناظر میں نوجوان نسل اپنے حصے کا مطالبہ جلدی کرنے پر زور دے رہی ہے۔ اگرچہ یہ رجحان بنیادی طور پر مغربی معیشتوں سے جڑا ہے، لیکن اس کی مالیاتی کشمکش کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے متوسط گھرانوں میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔
پاکستان میں خاندانی اثاثوں کی ملکی حثیت
پاکستان میں دولت کی تقسیم مغربی ممالک کے پنشن فنڈز یا حصص بازار کے ماڈل پر مبنی نہیں ہوتی۔ یہاں زیادہ تر سرمایہ کاری شہری جائیداد، سونا اور خاندانی کاروبار میں کی جاتی ہے۔ والدین عموماً زمین، رہائشی مکانات اور کاروباری پلاٹس اپنے پاس ہی رکھتے ہیں تاکہ بڑھاپے میں مالی تحفظ حاصل رہے۔ اس کے برعکس، مہنگائی اور کم آمدنی کی وجہ سے نوجوان نسل کے لیے اپنے بل بوتے پر گھر خریدنا یا کاروبار شروع کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
قانونی ضابطے اور خاندانی روایات
اسلامی قانونِ وراثت جائیداد کی تقسیم کا واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے، لیکن عملاً بزرگ جائیداد اپنے نام پر ہی رکھتے ہیں۔ والدین کو یہ خوف ہوتا ہے کہ جائیداد منتقل کرنے کے بعد ان کا گھر میں اثر و رسوخ کم نہ ہو جائے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق زندگی میں جائیداد ہبہ کرنے کے قانونی راستے موجود ہیں، لیکن ثقافتی روایات ایسی ہیں کہ اولاد کے لیے والدین سے جائیداد کا مطالبہ کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
- رئیل اسٹیٹ پاکستانی خاندانوں میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
- زندگی میں جائیداد منتقل کرنے سے بعد کے عدالتی تنازعات کم ہو سکتے ہیں۔
- نوجوانوں میں بے روزگاری خاندانی مالی معاونت کا دباؤ بڑھا رہی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ موجودہ معاشی صورتحال میں مالی خودمختاری حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اپنے گھر والوں سے شفاف انداز میں بات کریں۔ جائیداد بیچنے کے بجائے موجودہ اثاثوں سے آمدنی پیدا کرنے کے ذرائع تلاش کریں، جیسے کہ تجارتی اراضی کو کرائے پر دینا یا خاندانی کاروبار میں حصہ داری بڑھانا۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ٹیکس قوانین اور جائیداد کی منتقلی پر لگنے والے ٹیکسوں میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔ اسٹامپ ڈیوٹی اور پراپرٹی کی قیمتوں کے تعین کے نئے اصول خاندان کے اندر جائیداد کی قانونی منتقلی کے اخراجات پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ شہری علاقوں میں رہائش کی فراہمی کے رجحانات بھی یہ طے کریں گے کہ نوجوانوں کو مستقبل میں خاندانی تعاون کی کتنی ضرورت ہوگی۔
