انٹرنیشنل ڈیٹ مارکیٹ میں پاکستان کی واپسی کے منصوبے کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ عالمی سطح پر خودمختار بانڈز کی شرح سود میں اضافے نے پاکستان کے لیے بیرونی قرضوں کے حصول کو انتہائی مہنگا بنا دیا ہے۔ وفاقی حکومت اپنے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور معاشی استحکام کا سگنل دینے کے لیے نئے یورپی اور پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر سود کی بلند شرح نے اس منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے، جس پر پہلے ہی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا شدید دباؤ ہے، اس مرحلے پر کسی بھی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو اب ایک مشکل فیصلے کا سامنا ہے، جہاں معمولی سی تاخیر یا غلط قیمت کا تعین ملک کو طویل مدت کے لیے مہنگے قرضوں کے جال میں پھنسا سکتا ہے۔

اس ہفتے کی اہم معاشی تبدیلیاں

  • عالمی بانڈز کی شرح سود میں اضافہ برقرار ہے، جس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے قرضے مہنگے ہو رہے ہیں۔
  • پاکستان بانڈ مارکیٹ میں واپسی کے لیے مانیٹری مشیروں نے حکومت کو زیادہ شرح سود پر بانڈز جاری نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
  • مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 800 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد 24 قیراط سونا 465,336 روپے فی تولہ پر بند ہوا۔
  • بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ بانڈز کی طرف منتقل کیا۔

پاکستان بانڈ مارکیٹ کو درپیش خطرات

پاکستان کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ سے فنڈز اکٹھا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً امریکہ کے سرکاری بانڈز پر ملنے والا زیادہ منافع ہے۔ جب سرمایہ کاروں کو امریکہ میں بغیر کسی خطرے کے اچھا منافع مل رہا ہو، تو وہ پاکستان جیسے کمزور کریڈٹ ریٹنگ والے ممالک کے بانڈز خریدنے کے لیے بہت زیادہ سود کا مطالبہ کرتے ہیں۔

کراچی کے مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر پاکستان یورو بانڈز جاری کرتا ہے تو اسے ڈبل ڈیجٹ (دہائی کے ہندسے میں) سود ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے ملک کے بجٹ پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ حکومت چین کی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر لیکویڈیٹی کی کمی کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط ہیں۔

وزارت خزانہ کے لیے قیمت اور وقت کا انتخاب

وزارت خزانہ اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے تحت کام کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ پاکستان کو دوطرفہ قرضوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹ سے بھی فنڈز حاصل کرنے ہوں گے۔ اس لیے بانڈ مارکیٹ میں واپسی حکومت کی مجبوری بن چکی ہے۔

تاہم، حکومت جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کر سکتی۔ اگر بانڈز پر زیادہ سود کی پیشکش کی گئی تو اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی کمزوری کا تاثر جائے گا۔ دوسری طرف، اگر سود کم رکھا گیا تو بانڈز فروخت نہیں ہوں گے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکام عالمی مرکزی بینکوں کی جانب سے سود کی شرح میں ممکنہ کمی کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ بانڈز کی لانچنگ کے لیے موزوں وقت کا انتخاب کیا جا سکے۔

عالمی اثرات کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں کمی

ایک طرف جہاں عالمی مارکیٹ میں شرح سود بڑھنے سے قرضے مہنگے ہو رہے ہیں، وہیں اس کا اثر سونے کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق، مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 800 روپے کمی کے بعد 465,336 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔ یہ کمی عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔

جب بانڈز پر منافع بڑھتا ہے، تو بڑے سرمایہ کار سونے جیسی غیر منافع بخش دھات سے پیسہ نکال کر سرکاری بانڈز میں لگاتے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے عالمی سطح پر سونے کی مانگ کم ہوئی ہے، جس کا فائدہ پاکستان کے مقامی خریداروں کو بھی پہنچا ہے۔ تاہم، پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمت اب بھی ڈالر کی قدر اور عالمی مارکیٹ سے منسلک ہے۔

صارفین اور سرمایہ کار کیا کریں؟

اگر آپ کاروبار چلا رہے ہیں یا سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں، تو موجودہ حالات میں مقامی مارکیٹ سے مہنگے تجارتی قرضے لینے سے گریز کریں۔ عالمی اثرات کی وجہ سے پاکستان میں بھی سود کی شرح طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان ہے۔

چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے نیشنل سیونگز اسکیمیں اور بینکوں کے فکسڈ ڈپازٹس اب بھی بہترین آپشن ہیں کیونکہ ان پر اچھا منافع مل رہا ہے۔ سونے کے خریداروں کے لیے 800 روپے کی حالیہ کمی ایک اچھا موقع ہو سکتی ہے، لیکن قیمتوں میں کسی بہت بڑی گراوٹ کی امید نہ رکھیں۔ طویل مدت میں سونا ہمیشہ افراط زر کے خلاف ایک بہترین تحفظ فراہم کرتا ہے۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنے والے دنوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں پر نظر رکھیں۔ مقامی سود کی شرح میں کوئی بھی بڑی تبدیلی ملکی معیشت کی سمت کا تعین کرے گی۔

اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے یورو بانڈز کے لیے بین الاقوامی روڈ شوز کے اعلان پر نظر رکھیں۔ یہ بانڈز جس شرح سود پر فروخت ہوں گے، اس سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور آنے والے مہینوں میں روپے کی قدر کا فیصلہ ہوگا۔ اگر حکومت اچھے شرائط پر قرض حاصل کرنے میں کامیاب رہی، تو ملکی معیشت پر دباؤ کم ہو جائے گا۔