عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کے نرخوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے پاکستان میں سونے کی قیمت کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر گھریلو بجٹ، بچتوں اور شادی بیاہ کے انتظامات پر پڑ رہا ہے۔ اگر آپ کراچی، لاہور یا راولپنڈی کے صرافہ بازاروں کے نرخ پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ اب ایک تولہ سونا خریدنا عام تنخواہ دار طبقے کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تازہ ترین تیزی کسی ایک ملک کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی، مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے دھاتوں کے بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ ہے۔
عالمی منڈی میں قیمتی دھاتیں کیوں مہنگی ہو رہی ہیں؟
موجودہ بحران بنیادی طور پر بیرونی معاشی ہلچل کا شاخسانہ ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق غیر یقینی پالیسیاں اور امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محفوظ ترین اثاثوں کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں گھبراہٹ پھیلتی ہے، سرمایہ حصص بازار سے نکل کر سونے کا رخ کرتا ہے۔ اسی دوران ایشیا سے لے کر یورپ تک کے مرکزی بینک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنے کے لیے ریکارڈ مقدار میں سونا خرید رہے ہیں۔ اس ادارہ جاتی خریداری کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک مضبوط بیس لائن بن چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ قیمتیں اب اتنی آسانی سے نیچے نہیں آئیں گی۔
عالمی منڈی کے ان جھٹکوں کے مقامی بازاروں پر فوری اثرات کچھ یوں ہیں:
- مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ اور فی گرام قیمتوں میں بڑا اضافہ۔
- سناروں کی جانب سے میکنگ چارجز (سازی کی اجرت) میں اضافہ تاکہ وہ اپنے منافع کا تحفظ کر سکیں۔
- روایتی نقدی کی بچت کی قوت خرید میں فوری کمی۔
- چاندی کے نرخوں میں بھی تیزی، جس سے غریب طبقے کی پہنچ سے چاندی بھی باہر ہوتی جا رہی ہے۔
پاکستانی متوسط طبقے پر اس کا اصل اثر
ایک عام پاکستانی خاندان کے لیے سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کا مطلب زندگی کی بڑی تقریبات کے لیے مشکلات کا دروازہ کھلنا ہے۔ ہمارے ہاں شادی بیاہ کا سیزن سونے کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے، لیکن مہنگائی نے اب والدین کو روایتی زیورات کے سیٹس کے بجائے ہلکے ڈیزائن یا مصنوعی زیورات اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر آپ سونے کو بچوں کی اعلیٰ تعلیم یا مستقبل کی شادی کے اخراجات کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتے ہیں، تو اب مارکیٹ میں قدم رکھنے کے لیے بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے۔ اب آپ کو دس گرام بسکٹ خریدنے کے لیے بھی لاکھوں روپے کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔
مزید برآں، مقامی مارکیٹ میں یہ اتار چڑھاؤ پاکستانی روپے پر عوام کا اعتماد کم کرتا ہے۔ جب لوگ اسٹیٹ بینک کی موجودگی کے باوجود مہنگائی سے پریشان ہوتے ہیں تو وہ اپنی جمع پੂੰجی بچانے کے لیے قیمتی دھاتوں کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن جب سونا خریدنا ہی ناممکن ہو جائے تو چھوٹی بچت کرنے والوں کے پاس اپنی رقم کو مہنگائی کی مار سے بچانے کا کوئی محفوظ راستہ نہیں بچتا۔
اب آپ کو اپنے پیسوں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کے پاس نقد رقم موجود ہے تو مارکیٹ میں اونچی قیمتوں کو دیکھ کر گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں۔ کسی چھوٹی سی اصلاح یا نرخ میں کمی کا انتظار کریں، اور صرف وہی اضافی رقم اس میں لگائیں جس کی آپ کو ہنگامی حالات میں فوری ضرورت نہ ہو۔ اگر آپ کا مقصد صرف سرمایہ کاری ہے تو بھاری کاریگری والے زیورات خریدنے سے گریز کریں کیونکہ سنار بیچتے وقت ان کی کٹوتی کر لیتے ہیں۔ خالص سرمایہ کاری کے لیے سرٹیفائیڈ بارز یا سکے خریدنے کو ترجیح دیں۔
اب بلین مارکیٹ میں اگلی کون سی چیزیں دیکھنی چاہئیں؟
امریکہ سے آنے والے معاشی اعداد و شمار اور شرح سود کے فیصلوں پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ یہی چیزیں بین الاقوامی نرخوں کا تعین کرتی ہیں۔ مقامی سطح پر ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر پر توجہ دیں؛ روپے کی کمزوری عالمی سونے کے فوائد کو فوراً یہاں دگنا کر دے گی۔ کوئی بھی بڑا مالی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مقامی صرافہ ایسوسی ایشن کی تازہ ترین رپورٹوں سے باخبر رہیں۔
