پاکستان میں سونے اور چاندی کی حالیہ قیمتیں اس ہفتے کے اختتام پر عالمی منڈیوں میں تیزی کے رجحان کی عکاس ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی فیڈرل ریزرو کی سود کی شرح کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے، قیمتی دھاتیں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہیں۔
ایک عام پاکستانی کے لیے، یہ صرف بین الاقوامی مالیات کی سرخی نہیں ہے؛ یہ سیدھا گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہونے والا معاملہ ہے۔ جب دنیا بھر کے مرکزی بینک افراط زر سے بچنے کے لیے سونا ذخیرہ کرتے ہیں، تو اس دھات کی بنیادی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی سونے اور چاندی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے آپ بین الاقوامی اتار چڑھاؤ کی قیمت کمزور روپے کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
ویک اینڈ کے مارکیٹ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ 'سیف ہیون' (محفوظ سرمایہ کاری) کی خریداری اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ جب سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہوتے ہیں، چاہے وہ علاقائی تنازعات ہوں یا واشنگٹن میں شرح سود کی تبدیلیاں، تو وہ کاغذی کرنسی چھوڑ کر جسمانی اثاثے خریدتے ہیں۔ یہ زبردست طلب سونے اور چاندی کی قیمتوں کو اوپر لے جاتی ہے۔
پاکستان میں، یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر آپ طویل مدتی سرمایہ کار ہیں جس نے مہینوں پہلے سونا خریدا تھا، تو آپ کی دولت میں تکنیکی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، اگر آپ ایک ایسے خاندان ہیں جو شادی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تو 24 قیراط اور 22 قیراط سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کا مطلب ہے کہ آپ کو 2026 کے اوائل کے مقابلے میں اسی وزن کے لیے نمایاں طور پر زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔
آپ کے روزمرہ کے مالیات پر اثرات
- شادی کے اخراجات: زیورات کے بجٹ بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ سونے کے زیورات کے لیے رقم مختص کر رہے ہیں، تو توقع رکھیں کہ آپ کو کچھ ہفتے پہلے کے بجٹ سے 5 سے 8 فیصد زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
- بچت کی حکمت عملی: بہت سے پاکستانی سونے کو مشکل وقت کے لیے سرمایہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ قیمت اوپر ہے، لیکن اگر آپ کو تنازعہ سے پیدا ہونے والی اتار چڑھاؤ کے جاری رہنے کی توقع ہے تو ابھی بیچنا جلدی ہو سکتی ہے۔ تاہم، عروج پر سونا خریدنا مارکیٹ میں اصلاح کے خطرے کے ساتھ آتا ہے۔
- روپے پر دباؤ: بلند عالمی نرخوں پر قیمتی دھاتیں درآمد کرنے کی مسلسل ضرورت ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے، جو بالواسطہ طور پر روپے کو دباؤ میں رکھتی ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ خریدنا چاہتے ہیں تو خوف میں آ کر جذباتی فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (APGJSA) کی جانب سے جاری کردہ روزانہ کے نرخوں کو ان کے سرکاری چینلز کے ذریعے دیکھیں۔ اگر آپ بیچ رہے ہیں تو یقینی بنائیں کہ آپ کو مارکیٹ کا منصفانہ ریٹ ملے، کیونکہ مقامی ڈیلر اکثر زیادہ اتار چڑھاؤ کے دوران اپنے منافع کو محفوظ رکھنے کے لیے خرید و فروخت کی قیمتوں میں فرق (اسپریڈ) بڑھا دیتے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
اس مہینے کے آخر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے اعلانات پر گہری نظر رکھیں۔ اگر وہ سود کی شرح میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں تو ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے، جس سے سونے کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ مزید برآں، مشرق وسطیٰ کی سفارتی صورتحال پر نظر رکھیں؛ کشیدگی میں کمی سے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی، جو خریداروں کے لیے خریداری کا بہتر موقع فراہم کرے گی۔
