ایسے وقت میں جب مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے، بدھ، 5 اگست 2026 کو gold price in pakistan میں ایک ہی دن میں 10,000 روپے فی تولہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 24 کیراط سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 437,936 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہے۔

وہ خاندان جو شادی بیاہ کی تیاری کر رہے ہیں یا وہ افراد جو اپنی محدود بچت کو محفوظ بنانے کے لیے سونا خریدنے کا سوچ رہے تھے، کے لیے یہ خبر شدید مالی دھچکا ہے۔ جب بھی صرافہ بازار میں اتنی بڑی تیزی آتی ہے، تو اس کا براہ راست اثر عام آدمی کے روزمرہ کے بجٹ اور طویل مدتی مالیاتی فیصلوں پر پڑتا ہے۔

صرافہ بازار کے تازہ ترین اعداد و شمار کا جائزہ

ایک ہی دن میں دس ہزار روپے کا اچھال اس بات کا غماز ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ اور ملکی معاشی دباؤ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ آپ دن بھر کی تازہ ترین قیمتوں کی جانچ پڑتال کے لیے صرافہ ایسوسی ایشن کی سرکاری ویب سائٹ gsaj.org.pk کا وزٹ کر سکتے ہیں۔

تازہ ترین مارکیٹ اپ ڈیٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • اعلان کی تاریخ: بدھ، 5 اگست 2026
  • مارکیٹ کا مقام: اسلام آباد
  • اضافے کی مالیت: 10,000 روپے فی تولہ
  • نئی 24 کیراط سونے کی قیمت: 437,936 روپے فی تولہ
  • متعلقہ ادارہ: آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن

اس اضافے کا اثر چھوٹے وزن مثلاً دس گرام اور چھوٹے بسکٹس کی قیمتوں پر بھی فوری طور پر پڑا ہے۔ اگر آپ نے آنے والے دنوں میں کوئی زیور خریدنا ہے تو آپ کو اب کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا ہوگی۔

کیا یہ اضافہ آپ کے روزمرہ بجٹ کے لیے فائدہ مند ہے؟

اگر آپ کے پاس پہلے سے سونا موجود ہے تو کاغذ پر آپ کی دولت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ تاہم اس سونے کو بیچ کر فوری طور پر گھر کے بجلی کے بل یا آٹے گھی کا خرچ پورا کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔

عام تنخواہ دار طبقے کے لیے یہ صورتحال سراسر نقصان دہ ہے۔ متوسط طبقے کے لیے شادیوں کے موقع پر سونے کے زیورات کی خریداری اب خواب بنتی جا رہی ہے۔ روپیہ کمانے والے شہریوں کے لیے سونے کی خرید اب اتنی آسان نہیں رہی، اور انہیں متبادل مالیاتی ذرائع تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔

اب آپ کو کیا قدم اٹھانا چاہیے؟

ایسی منڈی میں گھبرا کر خریداری کرنا صسرام کے بجٹ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو اگست یا ستمبر 2026 کے دوران سونے کی فوری ضرورت نہیں ہے، تو کچھ عرصے کے لیے صرافہ بازاروں کا رخ کرنے سے گریز کریں۔ بہتر ہے کہ حکومتی بانڈز یا میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کریں جہاں لیکویڈیٹی نسبتاً بہتر ہوتی ہے۔

لاہور، کراچی اور راولپنڈی کے صرافوں کا کہنا ہے کہ بلند نرخوں کی وجہ سے گاہکوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے اور لوگ ہلکے وزن یا متبادل زیورات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

آئندہ چند ہفتوں میں مارکیٹ کا کیا رخ رہے گا؟

آنے والے دنوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں اونس کی قیمت اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر پر گہری نظر رکھیں۔ ملکی صرافہ بازار ہمیشہ عالمی رجحانات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر معاشی اشاریے بہتر ہوتے ہیں تو نرخوں میں کچھ حد تک استحکام آ سکتا ہے، تب تک اپنی جمع پੂੰی کو انتہائی احتیاط کے ساتھ سنبھالیں۔