پاکستان میں سونے کی قیمت جمعہ کے روز 5,100 روپے فی تولہ کے زبردست اضافے کے ساتھ ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس نے شادی بیاہ کی تیاریاں کرنے والے خاندانوں اور عام خریداروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق، اس تازہ ترین اضافے کے بعد 24 قیراط سونے کی قیمت 454,336 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔

اگر آپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کی قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ کراچی، اسلام آباد، لاہور اور پشاور کی مقامی مارکیٹوں میں صرف تین کاروباری دنوں کے دوران سونے کی قیمت میں 26,400 روپے فی تولہ کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ ایک بڑا معاشی جھٹکا ہے جو براہِ راست آپ کے گھر کے بجٹ اور بچت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

اس وقت مارکیٹ کی صورتحال کچھ یوں ہے:

  • 24 قیراط سونے کی موجودہ قیمت: 454,336 روپے فی تولہ (جمعہ تک)
  • ایک دن کا اضافہ (جمعہ): 5,100 روپے فی تولہ
  • تین دنوں کا مجموعی اضافہ: 26,400 روپے فی تولہ
  • رپورٹنگ ادارہ: آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن
  • بنیادی وجوہات: عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور مقامی کرنسی پر دباؤ

سونے کی قیمت میں اس ریکارڈ اضافے کی وجوہات

پاکستان میں سونے کی قیمت کو سمجھنے کے لیے ہمیں عالمی اور ملکی دونوں عوامل پر نظر ڈالنی ہوگی۔ مقامی سطح پر جب بھی پاکستانی روپے کی قدر میں عدم استحکام آتا ہے یا مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے، تو لوگ اپنی جمع پونجی بچانے کے لیے سونے کا رخ کرتے ہیں۔ سونا ایک ایسی محفوظ سرمایہ کاری ہے جو کاغذی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہے۔

عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا سونا درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں ہونے والی کوئی بھی تبدیلی براہِ راست کراچی اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب عالمی سرمایہ کار خوف کی وجہ سے سونا خریدتے ہیں، تو اس کا خمیازہ پاکستان کے عام خریدار کو بھگتنا پڑتا ہے۔

تین دنوں میں 26,400 روپے کا یہ اضافہ حالیہ مہینوں کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار معاشی غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری کر رہے ہیں۔ تاہم، ایک عام شہری کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ سونا اب ان کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔

عام پاکستانی کے لیے یہ خبر اچھی ہے یا بری؟

اگر سچ بات کی جائے تو پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے یہ خبر انتہائی بری ہے۔

اگر آپ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بیٹی کی شادی کی تیاری کر رہے ہیں، تو آپ کا بجٹ مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سونا صرف زیور نہیں بلکہ شادیوں کی ایک اہم ضرورت اور لڑکی کا مالی تحفظ سمجھا جاتا ہے۔ شادی کے لیے عام طور پر بنائے جانے والے 3 سے 5 تولہ کے سیٹ کی قیمت اب گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں لاکھوں روپے بڑھ چکی ہے۔ خاندان اب مجبوراً ہلکے وزن کے زیورات، 18 قیراط سونا، یا چاندی پر سونے کا پانی چڑھوا کر کام چلانے پر مجبور ہیں۔

دوسری طرف، اگر آپ نے چند ماہ پہلے سونا خریدا تھا، تو آپ کو یقیناً فائدہ ہوا ہے اور آپ کی سرمایہ کاری محفوظ رہی ہے۔ لیکن یہ خوشی بھی عارضی ہے، کیونکہ ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح اتنی زیادہ ہے کہ سونے سے ہونے والا منافع بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگے راشن کی نذر ہو جاتا ہے۔

موجودہ حالات میں آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ اس غیر یقینی صورتحال میں اپنے پیسوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ماہرین درج ذیل مشورے دیتے ہیں:

  • گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں: اس خوف سے فوراً جیولر کے پاس نہ دوڑیں کہ قیمت 5 لاکھ روپے تک پہنچ جائے گی۔ جب قیمتیں بہت تیزی سے اوپر جاتی ہیں، تو اکثر ان میں اچانک کمی بھی آتی ہے۔ مارکیٹ کے مستحکم ہونے کا انتظار کریں۔
  • تھوڑا تھوڑا کر کے خریدیں: اگر آپ مستقبل کی کسی ضرورت کے لیے سونا جمع کر رہے ہیں، تو ایک ساتھ بڑا سیٹ خریدنے کے بجائے 1 گرام یا 5 گرام کے چھوٹے بسکٹ یا سکے وقفے وقفے سے خریدیں تاکہ قیمت کا اوسط برقرار رہے۔
  • 18 قیراط کے ڈیزائن دیکھیں: اگر شادی کے لیے زیور خریدنا ناگزیر ہے، تو سنار سے 18 قیراط کے ڈیزائن دکھانے کا کہیں۔ یہ دکھنے میں بالکل 24 یا 22 قیراط جیسے ہوتے ہیں لیکن کم پیورٹی کی وجہ سے کافی سستے مل جاتے ہیں۔
  • حفاظت کا خاص خیال رکھیں: سونے کی قیمتیں اتنی زیادہ ہونے کے بعد اسے گھر میں رکھنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ محفوظ بینک لاکرز کا استعمال یقینی بنائیں۔

آنے والے دنوں میں کس چیز پر نظر رکھیں؟

آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر پر گہری نظر رکھیں۔ اگر روپیہ مستحکم ہوتا ہے، تو سونے کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کے فیصلوں پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ عالمی شرح سود برقرار رہنے سے سونے کی بین الاقوامی قیمتیں نرم پڑ سکتی ہیں، جس کا فائدہ پاکستانی مارکیٹ کو بھی پہنچے گا۔ تب تک، سونے کی خریداری میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔