پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کا رجحان ساتویں روز بھی جاری رہا، جس کے بعد بدھ کو سونے کی قیمت 4,200 روپے اضافے کے ساتھ 463,936 روپے فی تولہ کی تاریخی بلندی پر پہنچ گئی۔ یہ اضافہ عام آدمی کی قوت خرید پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے اور بچت کرنے والوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجوہات

سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی بنیادی طور پر بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ اثاثہ سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں سونے کا زیادہ تر انحصار درآمدات پر ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے یا روپے کی قدر میں کمی کا اثر مقامی جیولرز کے پاس پہنچنے والی قیمتوں پر فوری ہوتا ہے۔

  • موجودہ ریٹ: 463,936 روپے فی تولہ
  • ایک دن کا اضافہ: 4,200 روپے
  • مسلسل اضافے کا دورانیہ: 7 دن

آپ کی جیب پر اس کا اثر

ایک عام پاکستانی کے لیے یہ صورتحال دو دھاری تلوار کی طرح ہے۔ اگر آپ پہلے سے سونا خرید چکے ہیں، تو آپ کے اثاثوں کی مالیت میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے زیورات خریدنے والے یا نچلے اور متوسط طبقے کے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سونا ہمیشہ سے افراط زر کے خلاف ایک ڈھال سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن جب یہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے تو یہ تحفظ کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اگر آپ فی الحال سونا خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو مارکیٹ میں شدید غیر یقینی ہے۔ ریکارڈ سطح پر خریداری کرنا رسک سے خالی نہیں ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ بڑی خریداری کرنے کے بجائے مارکیٹ کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کریں، یا اگر آپ طویل مدتی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو چھوٹے حصوں میں خریداری کریں۔

آگے کیا ہوگا؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کرنسی اپ ڈیٹس اور عالمی حالات پر نظر رکھیں۔ چونکہ سونے کا کاروبار ڈالر میں ہوتا ہے، اس لیے روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ براہ راست قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر روپے کی قدر مزید کم ہوتی ہے، تو بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں مستحکم ہونے کے باوجود پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔

کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے پہلے 'آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن' (APGJSA) کی روزانہ کی اپ ڈیٹس چیک کریں۔ سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں پر یقین نہ کریں اور ہمیشہ مستند کاروباری خبروں کے ذرائع سے قیمتوں کی تصدیق کریں تاکہ آپ کسی بھی غلط قیمت کا شکار نہ ہوں۔