جب مقامی مارکیٹ میں سونے کے دام ایک ہی ہفتے میں ہزاروں روپے بڑھ جائیں، تو یہ صرف سرمایہ کاروں کی خبر نہیں رہتی بلکہ متوسط طبقے کی شادیوں کے بجٹ اور گھریلو بچتوں پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ پیر کے روز گولڈ پرائس ان پاکستان میں ابتدائی طور پر 1,700 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا 428,436 روپے پر پہنچ گیا۔ یہ تیزی یہیں نہیں رکی اور بدھ کے روز مقامی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمتوں میں یکدم 10,000 روپے فی تولہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اچانک اضافے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں زبردست تیزی ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور عالمی معاشی صورتحال کے باعث دیکھی گئی۔

عالمی منڈی میں تیزی اور مقامی مارکیٹ پر اس کے اثرات

پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ عالمی منڈی سے الگ تھلگ نہیں ہے، تاہم روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ بین الاقوامی جھٹکوں کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ پیر اور منگل کے روز عالمی بلین مارکیٹ میں خریداری کی نئی لہر تھی، جب دنیا بھر کے سرمایہ کاروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی توقعات اور دیگر سیاسی ہلچل کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کیا۔ جب بین الاقوامی سطح پر ریٹ بڑھتے ہیں، تو مقامی ڈیلرز فوری طور پر کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے صرافہ بازاروں میں نرخوں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ پاکستان سونے کی اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر ہونے والا ہر اضافہ یہاں براہ راست صارفین کی جیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اعداد و شمار کا جائزہ: فی تولہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ان اعداد و شمار کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے اس ہفتے کے دوران نرخوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ پیر کے روز آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے 1,700 روپے اضافے کا اعلان کیا جس سے 24 قیراط سونے کا فی تولہ دام 428,436 روپے ہو گیا۔ بدھ کے روز مارکیٹ کو اس وقت شدید دھکا لگا جب قیمتیں ایک ہی دن میں مزید 10,000 روپے فی تولہ بڑھ گئیں۔ متوسط طبقے کے وہ گھرانے جو شادی بیاہ کی تیاری کر رہے ہیں یا اپنی بچت کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں، ان کے لیے ایک ہی رات میں سونے کے زیورات ہزاروں روپے مہنگے ہو چکے ہیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ نقدی کو بچانے کے لیے سونا خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ عارضی جغرافیائی سیاسی خبروں کی وجہ سے ہونے والی وقتی تیزی میں اندھا دھند خریداری سے گریز کریں۔ عروج پر مارکیٹ میں کودنا اکثر نقصان کا سبب بنتا ہے کیونکہ اس کے بعد تکنیکی تصحیح (correction) کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو خاندانی مجبوریوں کے تحت سونے کی فوری ضرورت ہے، تو سارا سرمایہ ایک ساتھ لگانے کے بجائے قسطوں میں خریداری کریں۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ روزانہ کی تازہ ترین قیمتوں پر گہری نظر رکھیں۔ جن لوگوں کے پاس پہلے سے سونا موجود ہے، انہیں گھبرا کر بیچنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے طویل مدتی معاشی حالات سونے کی قدر کو اونچا ہی رکھیں گے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں بین الاقوامی کموڈٹی مارکیٹ کی رپورٹس، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر اور ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق سفارتی پیش رفت پر نظر رکھیں۔ اگر بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ریٹ نیچے آتے ہیں تو مقامی مارکیٹ میں بھی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے، بصورت دیگر مہلگ افراط زر کے پیش نظر سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان فی الحال کم ہے۔ کوئی بھی نیا مالیاتی فیصلہ کرنے سے پہلے صرافہ بازار کے مصدقہ نرخوں کا انتظار کریں۔