پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد عام شہریوں کی قوت خرید مزید متاثر ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 5,100 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 454,336 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔
گولڈ پرائس ان پاکستان میں اضافے کی وجوہات
سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات اور مقامی کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔ جب بھی عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بڑھتے ہیں، پاکستان میں اس کا اثر فوری طور پر جیولرز کی ایسوسی ایشن کے نرخوں میں نظر آتا ہے۔ عام آدمی کے لیے، جو سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری یا شادی بیاہ کی ضرورت کے طور پر دیکھتا ہے، یہ اضافہ مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔
کیا اب سونا خریدنا چاہیے؟
بہت سے لوگ اس کشمکش میں ہیں کہ کیا موجودہ نرخوں پر سونا خریدنا درست ہے؟
- قلیل مدتی ضروریات: اگر آپ کو فوری طور پر زیورات کی ضرورت نہیں ہے، تو مارکیٹ میں تیزی کے دوران خریداری سے گریز کرنا بہتر ہے۔
- طویل مدتی سرمایہ کاری: اگر آپ کا مقصد 5 سے 10 سال کے لیے سرمایہ کاری کرنا ہے، تو سونے کو اب بھی افراطِ زر کے خلاف ایک بہترین دفاع سمجھا جاتا ہے۔
- زیورات کی خریداری: اگر شادی کی وجہ سے خریداری ناگزیر ہے، تو کوشش کریں کہ زیورات چھوٹے حصوں میں خریدیں تاکہ بجٹ پر ایک دم بوجھ نہ پڑے۔
آگے کیا ہوگا؟
آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ نرخوں پر نظر رکھیں۔ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو یہ اشارہ ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی طلب برقرار ہے۔ خریداری سے پہلے اپنے شہر کے مقامی صرافہ بازار کے نرخوں کا موازنہ ضرور کریں اور ہمیشہ مستند جیولرز سے ہی رابطہ کریں۔ غیر مصدقہ ڈیلرز سے خریداری کرتے وقت 'میکنگ چارجز' کے نام پر اضافی رقم ادا کرنے سے بچیں، کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دوران کچھ دکاندار غیر ضروری منافع خوری بھی کرتے ہیں۔
